Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Wednesday, September 30, 2026

ایمرجنسی یاگورنرراج؟

وصال محمدخان
خیبرپختونخواسمیت پورے ملک میں قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ صوبے میں ایمرجنسی نافذہوگی یاپھرگورنرراج کانفاذہوگا؟اگرسرسری طور پر جائزہ لیاجائے کہ یہ حالات کیونکرپیداہوئے تو خیبرپختونخواکی صوبائی حکومت کی کارکردگی سے وطن عزیزکابچہ بچہ واقف ہے موجود ہ وزیر اعلیٰ جب سے برسراقتدارآئے ہیں انہوں نے اپنابیشتروقت صوبے سے باہر سیاسی سرگرمیوں میں گزاراہے اس دوران انہوں نے پنجاب کے تین،سندھ کے دواوربلوچستان کاایک دورہ کیاہے۔ یہ دورے باقاعدہ سرکاری نہیں بلکہ ذاتی سیاسی دورے تھے اوران میں انہوں نے وہاں عوامی اجتماعات،جلسے،جلوسوں اورریلیوں سے خطاب بھی کیااوروہاں کی صوبائی حکومتوں کوکڑی تنقیدکانشانہ بھی بنایاجبکہ دوسری جا نب اگرصوبے کاجائزہ لیاجائے توایک رپورٹ کے مطابق انکے دورِوزارت اعلیٰ میں 3811حملے کئے گئے ہیں جن کی روزانہ اوسط 12 بنتی ہے ان واقعات میں بشمول235پولیس اہلکارو افسران اورعام شہری 5سوسے زائدافراد شہیدہوئے ہیں۔ یعنی ہرروز7افرادکی شہادت ہوئی ہے۔1584عام شہری،فوج،پولیس اورایف سی اہلکارزخمی ہوئے ہیں۔150 پولیس چوکیوں یاچیک پوسٹوں کونشانہ بنایاگیاہے۔ قابل افسوس امریہ ہے کہ 80فیصد واقعات کے رونماہوتے وقت وزیراعلیٰ صوبے میں موجودنہیں تھے۔ گزشتہ5اگست کو انہوں نے پشاور جلسے میں 27ستمبراسلام آبادمارچ کااعلان کیاجس کے بعد پہلے توخیبرپختونخواکے طول وعرض اوربعدازاں سندھ اورپنجاب کے دورے کئے جہاں کارکنوں کو27ستمبرلانگ مارچ میں شرکت کی تلقین کی اورکہا کہ اس بارناکامی کی صورت میں ہم کبھی کامیاب نہ ہوسکیں گے یعنی مجوزہ لانگ مارچ کوانہوں نے زندگی اورموت کامسئلہ قراردیا۔اس مارچ کیلئے انہوں نے 53روزتک صوبے سمیت پورے ملک میں ایک جذباتی ماحول پیداکرنیکی کوشش کی۔انکے ارادوں اورسابقہ ریکارڈ کومدنظررکھتے ہوئے وفاقی حکومت کے بھی کان کھڑے ہوگئے اور بلوائیو ں سے نمٹنے کیلئے جدیداورسائنسی انتظامات کئے گئے بلکہ ان سخت اقدامات کاڈھنڈورا بھی پیٹاگیاجس سے سہیل آفریدی اورانکی پارٹی دباؤ میں آگئے اورمقررہ دن سے دوروزقبل مارچ 5 اکتوبرتک ملتوی کرنے کااعلان کرتے ہوئے 27ستمبرکی تاریخ سے ہی مکرگئے اورپریس کانفرنس میں صحافی کوچیلنج دیاکہ میراوہ بیان سامنے لایاجائے جس میں،میں نے 27 ستمبر کی تاریخ دی ہوحالانکہ 5اگست کے بعدوہ 27 ستمبرکی گردان کرتے ہوئے نظرآئے۔مارچ توایک ہفتے کیلئے مؤخرکردیاگیا مگر ریاستی حلقو ں نے اس بارمارچ کاانتہائی برامنایااورسہیل آفریدی سمیت خیبرپختونخواحکومت کامستقل بندوبست کرنے کی سوچ سامنے آئی وفاقی وزرا کے بیانات سے صاف جھلک رہا ہے کہ گورنر راج یاایمرجنسی کے حوالے سے چلنے والی بحث بے بنیادنہیں بلکہ یہ وقوعہ رونما ہونے میں زیادہ دیربھی نہیں۔ خیبرپختونخواسے تعلق رکھنے والے بیشترصحافتی حلقے روزاول سے ہی صوبائی حکومت کی خدمت میں عرض کرتے چلے آر ہے ہیں کہ خدارااس حساس صوبے کے معاملات لاابالی پن اوراحمقانہ حرکتوں کی بجائے سنجیدگی کے متقاضی ہیں۔یہ صوبہ مسائل کاگڑھ اسی لئے بن چکاہے کہ گزشتہ 13برس سے اسکے سلگتے ہوئے مسائل پرتوجہ دینے کی بجائے یہاں کی حکومت اوروسائل کو سیاسی پروموشن کیلئے استعمال کیاگیا۔اس جماعت کے اولین وزیراعلیٰ پرویزخٹک کوتجربہ کاراورزیرک سیاستدان سمجھاجاتاہے مگرانکے دورمیں بھی انہی اوچھی حرکتوں کاسلسلہ جاری رہا۔کچھ حلقے پرویزخٹک دور کوبہترقراردے رہے ہیں مگراس دورمیں صوبائی وسائل ڈی چوک دھرنوں کیلئے استعمال ہوتے رہے،ڈیزل اورپٹرول کے بھرے ڈرمز روزانہ یہاں سے جاتے رہے،جن کی ویڈیوزبھی سامنے آئیں،وزیراعلیٰ نہ صرف ڈھول کی تھاپ پررقص کرتے رہے بلکہ وہ بھی اسی طرح کامارچ لیکراسلام آبادپرحملہ آورہوئے اورسب سے بڑھکریہ کہ سینیٹ انتخابات میں پارٹی کے 22 ارکان باجماعت بک گئے جن میں سے بیشترنے بعدمیں الزام لگایاکہ انہوں نے سی ایم کے حکم پررقم وصول کی۔انکے بعدمحمودخان وزیراعلیٰ بنے جنہوں نے چاربرس کے دوران نہ ہی وفاق سے صوبائی واجبات کا مطالبہ کیا،صوبائی حقوق کیلئے زبان کوحرکت تک نہ دی اورنہ ہی ان چارسالوں میں این ایف سی اجلاس منعقدکرکے صوبے کاحصہ بڑھانے کامطالبہ کیاگیا۔محمودخان وزارت اعلیٰ ملنے پرسرشارتھے،پرویزخٹک ایک کمزوروزیراعلیٰ لانے پرخوش تھے جبکہ عمران خان بزدارپلس کی دریافت پرشاداں رہے۔عدم اعتمادکے آئینی طریقے سے عمران حکومت کی رخصتی پرمحمودخان نے بھی دو مرتبہ اسلام آباد لانگ مارچ کی کوشش کی اوربعدازاں غیرضروری طورپردس ماہ قبل اسمبلی توڑدی۔2024ء میں پارٹی کوایک بارپھر اکثر یت ملی توعلی امین گنڈاپورکووزیراعلیٰ نامزدکیاگیاجنہوں نے اس عہدۂ جلیلہ سے انصاف کیاکرناتھاوہ بھی اسلام آبادمارچوں کامشغلہ پالتے رہے مگرناکامی کے باعث انہیں جیل سے مستعفی ہونے کاحکم ملاتوقرعہ فال سہیل آفریدی کے نام نکلاجنہوں نے بچگانہ اقداما ت کے سابقہ تمام ریکارڈزتوڑڈالے۔نہ انہیں صوبے میں دہشتگردی کی پرواہ ہے، نہ افغان مہاجرین کی واپسی کے سلسلے میں ریاست سے تعاون کرتے ہیں اورنہ ہی وہ حکومتی معاملات پرتوجہ دینے کی زحمت اٹھاتے ہیں صبح سے شام تک بانی کورہاکروائینگے احتجاج کرینگے،احتجاج ہماراجمہوری حق ہے کی گردان جاری رکھتے ہیں شعلہ بیانی سے اب اسمبلی فلورپر خواتین بھی محفوظ نہیں جبکہ وفاقی وزرا کے نام بگاڑنااورشکل کامذاق اڑانا وطیرہ بنالیاگیاہے۔صوبے سے ملحقہ سرحدپرافغانستان کیساتھ ملک کو جنگی صورتحال درپیش ہے،صوبے میں دہشتگرددندناتے پھررہے ہیں عام شہری،پولیس اورفوجی اہلکارنشانہ بنائے جاتے ہیں مگر وزیراعلیٰ اس سے لاتعلقی اختیارکئے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں صوبے کے اندر سے بھی جبکہ وفاق اورملک کے دیگرحصوں میں بھی یہی رائے عامہ ہموار ہورہی ہے کہ اگرخیبرپختونخواکی حکومت اپنی ذمے داریاں پوری کرنے سے قاصرہے تواسے رخصت کیاجائے۔ وفاق کی جانب سے بھی تواترکیساتھ حکومت کی رخصتی،گورنرراج یاایمرجنسی کی باتیں سامنے آرہی ہیں۔حکمران جماعت کواب ادراک ہورہاہے کہ اسکی طرزحکمرانی ریاستی سلامتی کیلئے نقصان دہ ہے اسلئے وزیراعلیٰ کی تبدیلی پرغور ہو رہاہے مگرجب تک عمران خان کو رہائی کیلئے دوسراآپشن دستیاب نہ ہونئے وزیراعلیٰ بھی اسی راہ کے راہی ہونگے۔موجودہ حالات میں خیبرپختونخواکاگورنرراج یاایمرجنسی سے محفوظ رہنامعجزہ ہی ہوگا۔

وائس آف کے پی اور اسکی پالیسی کا لکھاری کی رائے سے متفق ہوناضروری نہیں ہے۔

ایمرجنسی یاگورنرراج؟

Shopping Basket