عقیل یوسفزئی
پاکستان کی اکثر سیاسی پارٹیاں عوام اور کارکنوں سے رجوع کرنے یا کسی سیاسی احتجاج کی بجائے نام نہاد سوشل میڈیا پر انحصار کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ ، بارگیننگ کے لیے ان پارٹیوں نے سوشل میڈیا پر نہ صرف بہت بڑی سرمایہ کاری شروع کردی ہے بلکہ ان کارکنوں کی ” عزت اور اہمیت” بڑھادی ہیں جو مخالفین ، ریاست اور میڈیا پرسنز کو زیادہ سے زیادہ ” گالیاں” دینے کی ” صلاحیت” رکھتے ہیں حالانکہ اسی رویے نے پی ٹی آئی جیسی پارٹی کو دیوار سے لگایا ہے اور اب پارٹی کے اندر سے سوشل میڈیا کے ” کی بورڈ واریئرز ” کے خلاف پوری صف بندی جاری ہے ۔
افسوس ناک بات یہ ہے کہ جس ریاست اور میڈیا مخالف پالیسی کے باعث پی ٹی آئی کو دیوار سے لگایا گیا ہے اس پالیسی کو جے یو آئی اور اے این پی جیسی وہ پارٹیاں بھی ” کاپی ” کرنے لگی ہیں جن کو ماضی میں پی ٹی آئی ہی نے اپنی پروپیگنڈا پالیسی کے تحت عوام میں مشکوک بنانے اور بدنام کرنے کی پریکٹسز کیں اور اسی پارٹی نے ان دو پارٹیوں کو تین مختلف انتخابات میں شکست سے دوچار کردیا اور آخر میں یہ پارٹی ریاست کی ہلکی سی ” لرزش ” کے باعث اپنی صوبائی حکومت سے ہاتھ دھو بیٹھی اور اب پی ٹی آئی بدترین توڑ پھوڑ سے دوچار ہوگئی ہے ۔
ان تین پارٹیوں کے پاس چونکہ عوام کی توجہ حاصل کرنے کو کچھ خاص نہیں ہے اس لیے انہوں کو خود کو سیاست میں” ان ” رکھنے کے لیے اینٹی اسٹیبلشمنٹ کا راستہ اختیار کرلیا ہے حالانکہ اے این پی اور جے یو آئی کے سربراہان اپنے آبائی صوبے یعنی خیبرپختونخوا کی بجائے بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی اور سینیٹر بنے اور اس پیکیج کو مقتدرہ کے ہاتھوں ” ایکوموڈیٹ” کرنے کی کوشش کا نتیجہ ہی قرار دیا جارہا ہے ۔
اے این پی کے سربراہ نے امریکہ کے ذاتی دورے کے خلاف پاک بھارت جنگ سے متعلق جو باتیں کیں ان باتوں سے ان کی ” سنجیدگی” کا نہ صرف اندازہ لگایا جاسکتا ہے بلکہ انہوں نے خود کو مذاق بناکر پیش کیا مگر اکثر پارٹیاں چونکہ شخصیت پرستی اور گروہی مفادات کی گرد گھومتی رہی ہیں اس لیے کارکنوں کی سطح پر ایسی ہی بے سروپا بیانات کو پسند کیا جاتا ہے اور ان کی نظر میں اپنے لیڈروں سے کوئی سوال پوچھنے کا تصور ہی معیوب سمجھا جاتا ہے ۔
ان رویوں نے جہاں ایک طرف سیاسی جماعتوں کو محاذ آرائیوں کی سیاست میں دھکیل دیا ہے اور کارکنوں میں بداخلاقی بڑھنے کا راستہ ہموار کردیا ہے وہاں عام عوام کی بے چینی بڑھانے کا راستہ بھی ہموار کرکے رکھ دیا ہے ۔
اگر چہ سوشل میڈیا کے ذریعے بعض پارٹیاں فرسٹریشن ہی نکالنے کی کوشش میں مصروف عمل ہیں تاہم معاشرے سے گھٹن اور بے چینی کے لیے لازمی ہے کہ متعلقہ ریاستی ادارے سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت پھیلانے اور شرپسندی میں ملوث پارٹیوں اور ان کے عہدے داروں ، کارکنوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کے امکانات پر ہنگامی بنیادوں پر کارروائیوں کا آغاز کریں ورنہ اس طوفان بدتمیزی سے کوئی بھی نہیں بچے گا اور ان انتہا پسندانہ رویوں کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہوں گے ۔
اس کے ساتھ یہ بھی لازمی ہے کہ کرپٹ سیاسی خاندانوں ، گروہوں اور مافیاز کے کرپشن اور اقربا پروری کا راستہ روک دیا جائے اور سیاسی مفاہمت کے نام پر کرپٹ پریکٹسز کا خاتمہ کیا جائے ۔


