Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Wednesday, November 4, 2026

مولانااورحکومت کی محاذآرائی

وصال محمدخان
وفاقی حکومت اورمولانا فضل الرحمان کے درمیان اختلاف کاآغازگزشتہ انتخابات کے بعدہواجب مرکزمیں پیپلز پارٹی اورمسلم لیگ ن نے پاورشیئرنگ کا موجودہ فارمولاطے کیاجس کے تحت ن لیگ کووفاق اورپنجاب جبکہ پیپلزپارٹی کوسندھ اوربلوچستا ن کی حکومتوں سمیت صدر مملکت کاعہدہ،چیئرمین سینیٹ اوردوصوبوں کی گورنرشپ ملی۔اس سے قبل مولانافضل الرحمان اورموجودہ حکمران جماعتوں کے درمیان چارسال تک اتحادقائم رہا۔مولانااس پی ڈی ایم کے صدرتھے جس نے عمران خان حکومت کے خلاف عدم اعتمادپیش کرکے اسے کامیاب بنایا۔عمران حکومت کی رخصتی پرشہبازشریف کی سربراہی میں قائم حکومت میں مولانافضل الرحمان بھر پورطریقے سے شریک اقتدار رہے۔ انکے فرزندوزیرمواصلات بنے جبکہ خیبرپختونخواکی نگران حکومت میں انکے درجن بھروزراشامل ہوئے اوران کے سمدھی غلام علی گورنر بنے۔ مولاناکوپختہ یقین تھاکہ عام انتخابات کے نتیجے میں خیبرپختونخواکی حکومت انہیں ملے گی مگرانتخابا ت کا نتیجہ توقعات سے یکسرمختلف نکلااور صوبے میں پی ٹی آئی نے بھرپورکامیابی حاصل کی۔اگرچہ انتخابی نتائج پرتقریباًتمام سیاسی جماعتوں کوتحفظات تھے مگرمولانا کوصوبے کی حکومت نہ ملنے کاکچھ زیادہ ہی قلق رہا۔انتخابات سے قبل ن لیگ اورجے یوآئی کے درمیان مضبوط تعلقات قائم رہے بلکہ بعض حلقوں میں دونوں نے متفقہ امیدواربھی اتارے۔مولاناکی خواہش تھی کہ ن لیگ پنجاب میں بھی انکے ساتھ اتحادبنائے جس کے نتیجے میں انہیں خیبر پختونخوااوربلوچستان سمیت پنجاب سے بھی نشستیں مل جائیں۔مگرن لیگ پنجاب میں کسی اتحادکے خلاف تھااسلئے یہ اتحادزیادہ پائیدارنہ رہا۔بعض ذرائع یہ بھی دعویٰ کررہے ہیں کہ مولاناصدرمملکت بننے کے خواہشمندتھے مگردو بڑی جماعتوں کے درمیان پاورشیئرنگ فارمولے کے تحت صدارت پرپیپلزپارٹی قابض ہوئی جبکہ سینیٹ چیئرمین شپ بھی انہیں نہ مل سکی۔اسلئے انہوں نے موجودہ سیٹ اَپ سے روٹھ جانا ہی مناسب سمجھااگرچہ ن لیگ نے انہیں ساتھ ملاکرچلنے کیلئے خاصے جتن کئے مگر مولاناروٹھ کر اپوزیشن میں بیٹھ گئے۔مولاناکی بدقسمتی رہی کہ انکے روایتی حریف علی امین گنڈاپورخیبرپختونخواکے وزیراعلیٰ بنے جومولاناکو ایک آنکھ نہیں بھاتے۔انکی رخصتی پرانہوں نے سکھ کاسانس لیااورنئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کیساتھ قربتیں بڑھائیں مگروفاق کی جانب سے گورنرراج اورایمرجنسی کے نفاذپرمولاناکوایک اوردھچکا گورنرفیصل کریم کنڈی کی صورت میں لگا۔ فیصل کنڈی بھی مولاناکے روایتی حریف رہے ہیں انہیں 1997ء میں فیصل کریم کنڈی کے والد جبکہ2008ء میں خودفیصل کنڈی ہراچکے ہیں۔مولاناکوغصہ شائداس پر بھی ہے کہ وہ جس صوبے کی حکمرانی کے امیدوارتھے اسی صوبے میں انکے ایک روایتی حریف منظرسے ہٹتے ہیں تودوسرے سامنے آجاتے ہیں جومولاناکی سیاست کیلئے کسی تازیانے سے کم نہیں۔ کچھ ذرائع یہ بھی دعویٰ کررہے ہیں کہ حکومتی اتحادسے مایوسی کے بعدان کاارادہ وفاق میں اپوزیشن لیڈربننے کاتھامگروہاں بھی محموداچکزئی نے میدان مارلیاہرطرف سے مایوسی کے بعدانہوں نے اکیلے ہی اپوزیشن لیڈر بننے کافیصلہ کیاجس کے تحت قصورکے ایک جلسے میں انہوں نے شہداکے بارے میں وہ بیان دیاجسے پورے ملک میں تنقیدکانشانہ بنایاگیا۔مولاناسمجھتے ہیں کہ موجودہ سیٹ اَپ کونہ صرف سٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے بلکہ اسکی پشت پربھی فوجی سٹیبلشمنٹ موجودہے اسلئے وہ اکثر وبیشترفوج کے ان زخموں کوکریدنے لگے جوبمشکل بھرچکے ہیں۔اس دوران انہوں نے فوج کوماضی کے وہ تمام طعنے دے ڈالے جسے ہزیمت کے زمرے میں شمارکیاجاتاہے بلکہ انہوں نے مبالغہ آرائی سے بھی گریزنہیں کیا۔گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی میں مولاناکے خطاب تک وہ یکطرفہ حکومت اورفوج پرتنقیدکے تیربرساکرخطابت اور لفاظی کے جوہردکھاتے رہے مگرگزشتہ ہفتے قومی اسمبلی میں خطاب کے جواب میں نہ صرف وزیردفاع خواجہ آصف نے انہیں جواب دینا ضروری سمجھابلکہ وزیرداخلہ محسن نقوی نے بھی سینیٹ میں اظہارخیال کرتے ہوئے ان پرالزامات کی بوچھاڑکردی۔جس پرتناؤمیں بے حد اضافہ ہوااوردونوں جانب سے الزامات اورجوابی الزامات کاایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیاہے جو تھمنے کانام نہیں لے رہا۔تجزیہ کارمولانا کے اس نئے روپ کومختلف نظروں سے دیکھتے ہیں کچھ کاخیال ہے کہ پی ٹی آئی اورحکومت کے درمیان رابطے استوارہوچکے ہیں جس کے تحت پی ٹی آئی اب اچھابچہ بن کرپرتشدداحتجاجوں کی بجائے سیاسی اور پارلیمانی کرداراداکریگی یعنی سٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ کم ازکم آئندہ انتخابات تک طاق نسیان کی زینت بن جائیگا۔دوسری جانب خیبرپختونخوامیں مولانا کے ووٹ بنک میں بھی خاصی کمی واقع ہوئی ہے جبکہ انکے مقابلے میں اے این پی اورن لیگ کی مقبولیت میں اضافہ ہواہے۔امیرمقام نے گزشتہ ہفتے سوات میں ایک بھرپورپاورشوکیاجبکہ اے این پی بھی ووٹ بنک بڑھانے کیلئے کوشاں ہے۔اگریہی صورتحال آئندہ انتخابات تک برقراررہتی ہے تومولانا کا مستقبل بھی حال سے زیادہ مختلف نہیں ہوگا۔اسلئے ایک تومولاناسٹیبلشمنت مخالفت کاکارڈ ہاتھ میں لینے کے خواہاں ہیں تودوسری جانب وہ یہ دباؤبڑھانابھی چاہتے ہیں کہ کم ازکم آئندہ انتخابات میں انکی پوزیشن زمانہ حال سے مختلف ہو۔اسی سبب انہوں نے سٹیبلشمنٹ اوروفاقی حکومت کونشانے پر رکھ لیاہے مگرحکومت نے بھی اب کی بارسیاسی شرافت کالبادہ اتارکرجارحانہ اندازاپنایاجس سے کشیدگی میں مزیداضافہ دیکھنے کومل رہاہے۔ سیاسی تناؤکاپارہ اوپرجانے پرمولاناکی فائلیں کھلنے کی خبریں بھی آرہی ہیں اورانکی جائیدادوں کے نت نئے قصے کہانیاں سامنے لائی جا رہی ہیں اگرمولانانے کرپشن کی ہے یاوہ ایسے کسی غیرقانونی امرمیں ملوث رہے ہیں توان کااحتساب ضرورہوناچاہئے مگراس کیلئے مولاناکے ’باغی‘ ہونے کاانتظارکیوں کیاگیا؟ اگراحتساب کیلئے پیمانہ مخالفت ہے توکوئی بعیدنہیں کہ کل کلاں موجودہ اتحادی بھی اسکی زدمیں آجائیں۔ ملک کے سنجیدہ وفہمیدہ حلقے سمجھتے ہیں کہ نہ ہی مولاناکوئی اعلیٰ پائے کے آئین،جمہوریت پسنداورانقلابی ہیں اورنہ ہی حکومت کے کرتادھرتا دودھ کے دھلے ہوئے ہیں۔دونوں کے درمیان حالیہ کشیدگی اورتناؤزیادہ سے زیادہ سیاسی مفادات کے حصول کاکھیل ہے جس کی ابتدا مولاناکی جانب سے ہوئی ہے۔مولانافضل الرحمان اورحکومت کی محاذآرائی میں فریقین کوصبروتحمل،دانش وتدبراورسیاسی رواداری کامظاہرہ کرتے ہوئے ذاتی مفادات پس پشت ڈالنے کی ضرورت ہے سیاسی مفادات کیلئے ملکی سلامتی سے کھلواڑکسی صورت جائزقرارنہیں دی جا سکتی۔

وائس آف کے پی اور اسکی پالیسی کا لکھاری کی رائے سے متفق ہوناضروری نہیں ہے۔

مولانااورحکومت کی محاذآرائی

Shopping Basket