وصال محمدخان
امریکہ اورایران کے درمیان 28فروری سے جاری جنگ میں چندروزہ تعطل کے بعداب تیزی آچکی ہے۔ آغازسے اب تک پاکستان متحارب فریقین کے درمیان جنگ بندی اورمذاکرات کیلئے انتھک کوششیں کرچکاہے جواب بھی کسی نہ کسی سطح پرجاری ہیں۔ان کوششوں میں ایک جانب پاکستان کی سول حکومت،وزیراعظم شہبازشریف،وزیرخارجہ اسحاق ڈاراوروزیرداخلہ محسن نقوی نے اپنا بھر پورکردارادا کیا تودوسری جانب فیلڈمارشل عاصم منیرنے بھی اس نیک مقصدکی حصول کیلئے دنرات ایک کردئے۔اسلام آباد،دوحہ اور سویٹزر لینڈمیں مذاکرا ت کے کئی ادوارمنعقدہوئے اورطویل گفت وشنیدکے بعدفریقین ایک مفاہمتی یادداشت پرمتفق ہوئے جس کے تحت ایران نے آبنائے ہرمزکوہرقسم کی بحری ٹریفک کیلئے کھولناتھااورامریکہ نے ایران پرسے تجارتی اوردیگرپابندیاں ہٹاکراسے نقدکی صورت میں رقم اداکرنی تھی۔ مگرافسوس یہ معاہدہ چند دن کامہمان ثابت ہوا۔ آبنائے ہرمزسے گزرنے والی جہازوں پرحملوں کے بعدامریکہ نے اسے معاہد ے کی خلاف ورزی قراردیکرایران پرحملوں کی بوچھاڑکردی۔جس کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی تنصیبات پر اپناغصہ نکالا۔ امریکہ اورایران ایکدوسرے پرمفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کے الزامات لگاکرخوودکوحق بجانب ثابت کرنیکی کوششیں کررہے ہیں۔ ایران یاپاسداران کاکہناہے کہ امریکہ نے جان بوجھ کرآبنائے ہرمزکے اُن راستوں سے جہازگزارنے کی کوشش کی جنہیں ایران نے ممنوع قراردیاتھا۔جبکہ امریکہ کاکہناہے کہ ایران نے مفاہمتی یادداشت یامعاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تجارتی جہازو ں کونشانہ بنایااسیلئے اب اسے ایران کی ہرقسم تنصیبات پرحملوں کالائسنس مل چکاہے۔اب وہ روزانہ ایران کے دفاعی تنصیبات کی آڑمیں پانی کے ذخا
ئر،پلوں،پاورسٹیشنز،مواصلاتی نظام اورتیل تنصیبات کوحملوں کانشانہ بنارہاہے۔جبکہ ایران جواب میں بحرین،کویت،قطر،اردن اور سعود ی عرب میں امریکی اڈوں یاوہاں امریکی تعاون سے بننے والی سٹرکچراورعمارتوں پرمیزائل اورڈرون حملے کررہاہے۔خلیجی ممالک امریکہ کے دفاعی چھتری تلے آکرمطمئن تھے کہ وہ اسرائیل اورایران سے محفوظ ہوگئے ہیں۔گلف ممالک ایران کے مقابلے میں اسرائیل کوبڑا خطرہ سمجھتے تھے۔امریکہ نے گلف ممالک کوایران سے ڈراکردفاعی معاہدوں میں جکڑااوردفاع کے نام پرکھربوں ڈالراینٹھ لئے اسی امریکہ نے صدام حسین کوایک عشرے تک ایران سے لڑواکرعربوں کانجات دہندہ باورکروایا۔مگر1990ء میں کویت پرعراقی قبضے سے خطے کے
حالات میں جوہری تبدیلی رونماہوئی۔ صدام حسین کی اس بھونڈی حرکت کے بعدخلیجی ممالک اورامریکہ کے درمیان دفاعی تعاون میں کئی گنااضافہ ہوا اورسعودی عرب سمیت خطے میں درجنوں امریکی فوجی اڈے بنے جواب ایرانی حملوں کامؤجب بن رہے ہیں۔ خلیجی ممالک اگرچہ ایران کواسرائیل کے مقابلے میں کمترخطرہ سمجھتے تھے مگرایرانی حالیہ حملوں سے ثابت ہواکہ ان ممالک کوایران سے سنجیدہ خطرہ لاحق تھا۔ ایران کا کلیم ہے کہ خلیجی ممالک میں جہاں وہ حملے کررہاہے یہی اڈے یا تنصیبات ایران کیخلاف حملوں کیلئے استعمال ہورہے ہیں حالانکہ ایران پر حملوں کیلئے اسرائیلی اڈے اورتنصیبات بھی استعمال ہورہی ہیں مگرایران اسرائیل پرکوئی حملہ نہیں کررہاکیونکہ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ اسرائیل کی جوابی کارروائی اسے مہنگی پڑسکتی ہے۔اسلئے وہ ان آسان ٹارگتس پرحملے کررہاہے جہاں سے جوابی کارروائی کا خطرہ نہ ہو۔جنگ موجودہ فیزمیں داخل ہونے سے یہ مزیدتباہ کن بن چکی ہے دونوں جانب نقصان مسلم ممالک کاہورہاہے۔پاکستان، اسکی فوجی اور سول قیادت جنگ کادائرہ وسیع ہونے سے خائف تھی اسلئے انہوں نے جنگ روکنے کی انتھک کوششیں کیں۔ پاکستان کودلالی کے طعنے بھی دئے گئے مگرپاکستان چونکہ امت مسلمہ کاغمخوار ہے اسلئے اس نے بھونکتے کتوں پرتوجہ دینے کی بجائے قافلے کاسفرجاری رکھا۔ مگرافسوس ایران اورامریکہ دونوں کی ہٹ دھرمی سے یہ کوششیں بارآورثابت نہ ہوسکیں اورجس خدشے کے پیش نظرپاکستان جنگ بندی کیلئے متحرک تھاکہ مسلمان ممالک ایک دوسرے سے دست وگریباں نہ ہوں اورانکے وسائل ایک دوسرے کی تباہی پرخرچ نہ ہوں، افسوس ان مخلصانہ کوششوں کی قدر نہیں کی گئی۔ایک جانب اگراسرائیل کی سازشیں کامیاب ہوئی ہیں تودوسری جانب ایران نے تحمل،بردباری اور دانشمندی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ایران کاخیال تھا کہ وہ جنگ جیت چکاہے اسلئے پاسداران افغان طالبان کی طرح معقول بات سننے اورماننے پرآمادہ دکھائی نہیں دے رہے پاسداران کایہ اقدام ایران کوتباہی کے گڑھے میں دھکیل رہاہے۔ایک جانب دنیاکی مانی ہوئی سپرپاورہے تو دوسری جانب ایران جونصف صدی سے پابندیوں کے سبب جاں بلب ہے اسکی معیشت تباہ ہوچکی ہے اوراب جنگ نے عشروں میں بنایا گیا انفرا سٹرکچر بھی تباہ وبربادکرکے رکھ دیاہے۔اسلام آبادمعاہدے کے مطابق اگرجنگ بندی عمل میں آتی تویقیناًیہ ایران کی فتح ہوتی مگر یہ معاہدہ ناکام ہونے پرامریکہ یااسرائیل کازیادہ نقصان نہیں ہوااسرائیل پرایران حملے کرنے سے قاصرہے اسکے کئی وجوہات ہوسکتی ہیں یا توایران کے پاس اسرائیل تک مارکرنیوالے میزائلوں کاذخیرہ ختم ہوچکاہے یاپھر ایران اسرائیل کیساتھ لڑنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ اسکی جنگی حکمت عملی اب گلف ممالک کو تباہ کررہی ہے امریکہ ایران کوحملوں کانشانہ بناتاہے توایران گلف ممالک کو،اس طرح جنگ کا نقصان مسلمانوں کو ہورہاہے اورگلف ممالک کاایران سے خطرے کاخدشہ بھی درست ثابت ہورہاہے۔اب تک توپاکستان کی کوششوں سے گلف ممالک جنگ میں نہیں کودے مگراس پالیسی کاتادیربرقراررہنامشکل ہے کوئی بعیدنہیں کہ یہ بھی جنگ میں کودجائیں اورایران پر ہونیوالے حملے دوآتشہ بن جائیں۔ایران نے معاہدے کومنطقی انجام تک پہنچانے سے گریزکرتے ہوئے نہ صرف اپنابلکہ پورے خطے کا نقصان کیاہے۔اب جنگ کادائرہ بھی پھیل رہاہے اوراسکے نتیجے میں ہونیوالی تباہی سے پوری دنیامتاثرہورہی ہے۔آبنائے ہرمزکی بندش سے دنیاکی معیشت متاثر ہوئی ہے اگرباب المندب بندہوتی ہے توپوری دنیاکی معیشت بیٹھنے کاخدشہ ہے۔جنگ کادائرہ مزیدپھیلنے سے یہ عالمی جنگ کی صورت بھی اختیارکرسکتی ہے اس وقت بھی خلیج کاپوراخطہ جنگ کی لپیٹ میں ہے خدانہ کرے کہ اس کادائرہ مزیدوسیع ہواورپوری دنیااسکی لپیٹ میں آئے۔ایران نے اسلام آبادمعاہدہ معطل کرکے اقوام متحدہ سے جنگ بندی کی اپیل کی ہے حالانکہ وہ اچھی طرح جانتاہے کہ اقوام متحدہ محض تقریروں تک محدودادارہ بن چکاہے اس نے پہلے بھی کوئی کردارادانہیں کیااورآئندہ بھی اس سے یہ خوفہمی پالناحماقت ہی ہوگی۔ کاش ایرانی قیادت یاپاسداران دانشمندی کاثبوت دیکرسویٹزرلینڈمیں دستخط شدہ اسلام آبادمفاہمتی یادداشت پرعملدرآمدیقینی بناتے توآج پورا خطہ جنگ کی شعلوں سے محفوط ہوتااورایران بھی جنگ کی تباہ کاریوں پرقابو پانے کی پوزیشن میں ہوتا۔


