اسلام آبادمعاہدہ معطل، خطے کاامن داؤپر
وصال محمدخان
امریکہ اورایران کے درمیان 28فروری سے جاری جنگ میں چندروزہ تعطل کے بعداب تیزی آچکی ہے۔ آغازسے اب تک پاکستان متحارب فریقین کے درمیان جنگ بندی اورمذاکرات کیلئے انتھک کوششیں کرچکاہے جواب بھی کسی نہ کسی سطح پرجاری ہیں۔ان کوششوں میں ایک جانب پاکستان کی سول حکومت،وزیراعظم شہبازشریف،وزیرخارجہ اسحاق ڈاراوروزیرداخلہ محسن نقوی نے اپنا بھر پورکردارادا کیا تودوسری جانب فیلڈمارشل عاصم منیرنے بھی اس نیک مقصدکی حصول کیلئے دنرات ایک کردئے۔اسلام آباد،دوحہ اور سویٹزر لینڈمیں مذاکرا ت کے کئی ادوارمنعقدہوئے اورطویل گفت وشنیدکے بعدفریقین ایک مفاہمتی یادداشت پرمتفق ہوئے جس کے تحت ایران نے آبنائے ہرمزکوہرقسم کی بحری ٹریفک کیلئے کھولناتھااورامریکہ نے ایران پرسے تجارتی اوردیگرپابندیاں ہٹاکراسے نقدکی صورت میں رقم اداکرنی تھی۔ مگرافسوس یہ معاہدہ چند دن کامہمان ثابت ہوا۔ آبنائے ہرمزسے گزرنے والی جہازوں پرحملوں کے بعدامریکہ نے اسے معاہد ے کی خلاف ورزی قراردیکرایران پرحملوں کی بوچھاڑکردی۔جس کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی تنصیبات پر اپناغصہ نکالا۔ امریکہ اورایران ایکدوسرے پرمفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کے الزامات لگاکرخوودکوحق بجانب ثابت کرنیکی کوششیں کررہے ہیں۔ ایران یاپاسداران کاکہناہے کہ امریکہ نے جان بوجھ کرآبنائے ہرمزکے اُن راستوں سے جہازگزارنے کی کوشش کی جنہیں ایران نے ممنوع قراردیاتھا۔جبکہ امریکہ کاکہناہے کہ ایران نے مفاہمتی یادداشت یامعاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تجارتی جہازو ں کونشانہ بنایااسیلئے اب اسے ایران کی ہرقسم تنصیبات پرحملوں کالائسنس مل چکاہے۔اب وہ روزانہ ایران کے دفاعی تنصیبات کی آڑمیں پانی کے ذخا
ئر،پلوں،پاورسٹیشنز،مواصلاتی نظام اورتیل تنصیبات کوحملوں کانشانہ بنارہاہے۔جبکہ ایران جواب میں بحرین،کویت،قطر،اردن اور سعود ی عرب میں امریکی اڈوں یاوہاں امریکی تعاون سے بننے والی سٹرکچراورعمارتوں پرمیزائل اورڈرون حملے کررہاہے۔خلیجی ممالک امریکہ کے دفاعی چھتری تلے آکرمطمئن تھے کہ وہ اسرائیل اورایران سے محفوظ ہوگئے ہیں۔گلف ممالک ایران کے مقابلے میں اسرائیل کوبڑا خطرہ سمجھتے تھے۔امریکہ نے گلف ممالک کوایران سے ڈراکردفاعی معاہدوں میں جکڑااوردفاع کے نام پرکھربوں ڈالراینٹھ لئے اسی امریکہ نے صدام حسین کوایک عشرے تک ایران سے لڑواکرعربوں کانجات دہندہ باورکروایا۔مگر1990ء میں کویت پرعراقی قبضے سے خطے کے
حالات میں جوہری تبدیلی رونماہوئی۔ صدام حسین کی اس بھونڈی حرکت کے بعدخلیجی ممالک اورامریکہ کے درمیان دفاعی تعاون میں کئی گنااضافہ ہوا اورسعودی عرب سمیت خطے میں درجنوں امریکی فوجی اڈے بنے جواب ایرانی حملوں کامؤجب بن رہے ہیں۔ خلیجی ممالک اگرچہ ایران کواسرائیل کے مقابلے میں کمترخطرہ سمجھتے تھے مگرایرانی حالیہ حملوں سے ثابت ہواکہ ان ممالک کوایران سے سنجیدہ خطرہ لاحق تھا۔ ایران کا کلیم ہے کہ خلیجی ممالک میں جہاں وہ حملے کررہاہے یہی اڈے یا تنصیبات ایران کیخلاف حملوں کیلئے استعمال ہورہے ہیں حالانکہ ایران پر حملوں کیلئے اسرائیلی اڈے اورتنصیبات بھی استعمال ہورہی ہیں مگرایران اسرائیل پرکوئی حملہ نہیں کررہاکیونکہ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ اسرائیل کی جوابی کارروائی اسے مہنگی پڑسکتی ہے۔اسلئے وہ ان آسان ٹارگتس پرحملے کررہاہے جہاں سے جوابی کارروائی کا خطرہ نہ ہو۔جنگ موجودہ فیزمیں داخل ہونے سے یہ مزیدتباہ کن بن چکی ہے دونوں جانب نقصان مسلم ممالک کاہورہاہے۔پاکستان، اسکی فوجی اور سول قیادت جنگ کادائرہ وسیع ہونے سے خائف تھی اسلئے انہوں نے جنگ روکنے کی انتھک کوششیں کیں۔ پاکستان کودلالی کے طعنے بھی دئے گئے مگرپاکستان چونکہ امت مسلمہ کاغمخوار ہے اسلئے اس نے بھونکتے کتوں پرتوجہ دینے کی بجائے قافلے کاسفرجاری رکھا۔ مگرافسوس ایران اورامریکہ دونوں کی ہٹ دھرمی سے یہ کوششیں بارآورثابت نہ ہوسکیں اورجس خدشے کے پیش نظرپاکستان جنگ بندی کیلئے متحرک تھاکہ مسلمان ممالک ایک دوسرے سے دست وگریباں نہ ہوں اورانکے وسائل ایک دوسرے کی تباہی پرخرچ نہ ہوں، افسوس ان مخلصانہ کوششوں کی قدر نہیں کی گئی۔ایک جانب اگراسرائیل کی سازشیں کامیاب ہوئی ہیں تودوسری جانب ایران نے تحمل،بردباری اور دانشمندی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ایران کاخیال تھا کہ وہ جنگ جیت چکاہے اسلئے پاسداران افغان طالبان کی طرح معقول بات سننے اورماننے پرآمادہ دکھائی نہیں دے رہے پاسداران کایہ اقدام ایران کوتباہی کے گڑھے میں دھکیل رہاہے۔ایک جانب دنیاکی مانی ہوئی سپرپاورہے تو دوسری جانب ایران جونصف صدی سے پابندیوں کے سبب جاں بلب ہے اسکی معیشت تباہ ہوچکی ہے اوراب جنگ نے عشروں میں بنایا گیا انفرا سٹرکچر بھی تباہ وبربادکرکے رکھ دیاہے۔اسلام آبادمعاہدے کے مطابق اگرجنگ بندی عمل میں آتی تویقیناًیہ ایران کی فتح ہوتی مگر یہ معاہدہ ناکام ہونے پرامریکہ یااسرائیل کازیادہ نقصان نہیں ہوااسرائیل پرایران حملے کرنے سے قاصرہے اسکے کئی وجوہات ہوسکتی ہیں یا توایران کے پاس اسرائیل تک مارکرنیوالے میزائلوں کاذخیرہ ختم ہوچکاہے یاپھر ایران اسرائیل کیساتھ لڑنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ اسکی جنگی حکمت عملی اب گلف ممالک کو تباہ کررہی ہے امریکہ ایران کوحملوں کانشانہ بناتاہے توایران گلف ممالک کو،اس طرح جنگ کا نقصان مسلمانوں کو ہورہاہے اورگلف ممالک کاایران سے خطرے کاخدشہ بھی درست ثابت ہورہاہے۔اب تک توپاکستان کی کوششوں سے گلف ممالک جنگ میں نہیں کودے مگراس پالیسی کاتادیربرقراررہنامشکل ہے کوئی بعیدنہیں کہ یہ بھی جنگ میں کودجائیں اورایران پر ہونیوالے حملے دوآتشہ بن جائیں۔ایران نے معاہدے کومنطقی انجام تک پہنچانے سے گریزکرتے ہوئے نہ صرف اپنابلکہ پورے خطے کا نقصان کیاہے۔اب جنگ کادائرہ بھی پھیل رہاہے اوراسکے نتیجے میں ہونیوالی تباہی سے پوری دنیامتاثرہورہی ہے۔آبنائے ہرمزکی بندش سے دنیاکی معیشت متاثر ہوئی ہے اگرباب المندب بندہوتی ہے توپوری دنیاکی معیشت بیٹھنے کاخدشہ ہے۔جنگ کادائرہ مزیدپھیلنے سے یہ عالمی جنگ کی صورت بھی اختیارکرسکتی ہے اس وقت بھی خلیج کاپوراخطہ جنگ کی لپیٹ میں ہے خدانہ کرے کہ اس کادائرہ مزیدوسیع ہواورپوری دنیااسکی لپیٹ میں آئے۔ایران نے اسلام آبادمعاہدہ معطل کرکے اقوام متحدہ سے جنگ بندی کی اپیل کی ہے حالانکہ وہ اچھی طرح جانتاہے کہ اقوام متحدہ محض تقریروں تک محدودادارہ بن چکاہے اس نے پہلے بھی کوئی کردارادانہیں کیااورآئندہ بھی اس سے یہ خوفہمی پالناحماقت ہی ہوگی۔ کاش ایرانی قیادت یاپاسداران دانشمندی کاثبوت دیکرسویٹزرلینڈمیں دستخط شدہ اسلام آبادمفاہمتی یادداشت پرعملدرآمدیقینی بناتے توآج پورا خطہ جنگ کی شعلوں سے محفوط ہوتااورایران بھی جنگ کی تباہ کاریوں پرقابو پانے کی پوزیشن میں ہوتا۔
نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے وفد کا پشاور کا دورہ
پشاور: نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے ایک وفد نے پشاور کا دورہ کیا، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی اور مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات شامل تھے۔ دورے کے دوران وفد کو صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی اور بارڈر مینجمنٹ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وفد نے لیفٹیننٹ جنرل عمر احمد بخاری سے ملاقات کی، جس میں قومی اور علاقائی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور سرحدی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بعد ازاں وفد نے گورنر ہاؤس پشاور کا دورہ کیا، جہاں فیصل کریم کنڈی سے ملاقات ہوئی۔ گورنر نے وفد کو صوبے کی موجودہ سیاسی صورتحال، امن و امان، سیکیورٹی چیلنجز اور حکومتی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
وفد کے ارکان نے دورے کے دوران یادگارِ شہداء پر حاضری بھی دی اور ملکی دفاع و امن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
وفد کے شرکاء نے ملاقاتوں کو انتہائی معلوماتی اور مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ کور کمانڈر نے انہیں آگاہ کیا کہ پاک فوج خیبر پختونخوا میں درپیش سیکیورٹی خطرات سے کس طرح نمٹ رہی ہے۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ کور کمانڈر اور گورنر خیبر پختونخوا کے ساتھ ہونے والے تفصیلی سیشنز میں سیکیورٹی صورتحال، سرحدی امور، دہشت گردی کے چیلنجز اور قومی سلامتی سے متعلق تمام اہم پہلوؤں پر جامع بریفنگ دی گئی، جس سے ان کی معلومات میں نمایاں اضافہ ہوا۔
وفد کے ارکان نے مزید کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا نے تمام سوالات، بشمول مشکل سوالات، کے کھلے دل اور واضح انداز میں جواب دیے، جس سے مختلف معاملات سے متعلق پائے جانے والے کئی ابہامات دور ہوئے۔
شرکاء کے مطابق اس دورے نے بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز اور خطے میں امن و استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔
آئی ایس پی آر سمر کیمپ 2026: پشاور میں “طلبہ کا ایک دن فوج کے ساتھ” پروگرام
پشاور، 20 جولائی: پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے زیرِ اہتمام سمر کیمپ 2026 کے سلسلے میں “طلبہ کا ایک دن فوج کے ساتھ” کے عنوان سے خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد طلبہ میں حب الوطنی، نظم و ضبط اور قومی شعور کو فروغ دینا تھا۔
تقریب کے دوران مختلف معلوماتی اسٹالز قائم کیے گئے، جہاں عسکری سازوسامان، ہتھیار، مواصلاتی آلات اور دیگر فوجی آلات کی نمائش کی گئی۔ طلبہ کو ان آلات کے استعمال، پیشہ ورانہ افادیت اور قومی دفاع میں ان کے کردار سے بھی آگاہ کیا گیا۔
طلبہ کے لیے آرچری، بیڈمنٹن، ٹگ آف وار اور دیگر کھیلوں کا بھی اہتمام کیا گیا، جن میں انہوں نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔
شرکاء نے اس پروگرام کو معلوماتی اور یادگار قرار دیتے ہوئے پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور پرخلوص میزبانی کو سراہا۔
طالبہ انیزہ انیل نے کہا، “پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور جدید عسکری سازوسامان کو قریب سے دیکھ کر بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ اس پروگرام نے ہمیں بتایا کہ پاک فوج کس طرح دن رات ملکی دفاع کی ذمہ داریاں انجام دیتی ہے۔”
طالب علم محمد معاذ نے کہا، “کمانڈوز کی آپریشنل مشق کا عملی مظاہرہ انتہائی متاثر کن اور معلوماتی تھا۔”
طالب علم حیدر میر کاظمی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا، “ہم پاک فوج کی قربانیوں اور خدمات پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ہمیں اپنی افواج پر فخر ہے اور آج کا دن ہمیشہ یاد رہے گا۔”
طالبہ شرنا نے کہا، “میں ایک پاکستانی ہونے پر فخر محسوس کرتی ہوں۔ پاکستان زندہ باد۔”
ملاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع میں وفاقی ٹیکسوں کے خلاف ہڑتال و احتجاجی مظاہرے
پشاور: وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ 2026-27 میں ضم شدہ قبائلی اضلاع (سابق فاٹا/پاٹا) کی صنعتوں پر 12 فیصد ٹیکس، تاجروں پر فکسڈ ٹیکس اور انکم ٹیکس کے نفاذ کے خلاف ملاکنڈ ٹریڈ فیڈریشن کی اپیل پر ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ ہڑتال کے باعث درگئی، سخاکوٹ، بٹ خیلہ، تھانہ، مینگورہ، کبل، بونیر، تیمرگرہ اور دیگر علاقوں میں بازار مکمل طور پر بند رہے۔
درگئی میں تاجروں، ٹرانسپورٹرز، مزدور تنظیموں اور مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے احتجاجی ریلی نکالی، جس کی قیادت تاجر رہنماؤں اور مقامی منتخب نمائندوں نے کی۔ مظاہرین نے ملاکنڈ روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا اور وفاقی ٹیکسوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے تاجر رہنماؤں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن، چترال، سوات اور ضم شدہ قبائلی اضلاع جیسے پسماندہ اور متاثرہ علاقوں پر نئے ٹیکسوں کا نفاذ معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان علاقوں کا ترقی یافتہ شہروں سے موازنہ کرکے یکساں ٹیکس عائد کرنا ناانصافی ہے۔
مقررین نے مؤقف اختیار کیا کہ امن و امان کی خراب صورتحال، سرحدی راستوں کی بندش، قدرتی آفات اور صنعتی سرگرمیوں میں کمی کے باعث پہلے ہی مقامی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے، جبکہ صنعتوں پر 12 فیصد ٹیکس سے متعدد صنعتی یونٹس بند ہونے اور سینکڑوں مزدوروں کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے۔
تاجر تنظیموں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی طرز پر ضم شدہ اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن پر عائد ٹیکس فوری طور پر واپس لیے جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں احتجاجی تحریک مزید وسیع کی جائے گی۔
ادھر خیبر، باڑہ، جمرود اور دیگر قبائلی علاقوں کی تاجر تنظیموں نے بھی وفاقی ٹیکسوں کے خلاف جرگوں کا آغاز کر دیا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ قبائلی اضلاع میں سیکیورٹی صورتحال، بار بار کرفیو، سرحدی گزرگاہوں کی بندش اور محدود روزگار کے باعث نئے ٹیکسوں کا نفاذ عوام پر اضافی بوجھ ہے، جس پر فوری نظرثانی کی جانی چاہیے۔
خیبرپختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے 12 افراد جاں بحق، 18 زخمی، پی ڈی ایم اے
پشاور: پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران صوبے میں ہونے والی تیز بارشوں اور فلش فلڈ سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق مختلف حادثات میں اب تک 12 افراد جاں بحق جبکہ 18 زخمی ہو چکے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 5 مرد، 5 بچے اور 2 خواتین شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 10 مرد، 4 خواتین اور 4 بچے شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث مجموعی طور پر 18 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں 15 گھروں کو جزوی جبکہ 3 گھروں کو مکمل طور پر تباہ ہونے کی اطلاع ہے۔
پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ یہ حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، لوئر و اپر چترال، لوئر و اپر دیر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، تورغر، کرم اور شمالی وزیرستان سمیت مختلف اضلاع میں پیش آئے۔
ترجمان کے مطابق پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے باہمی رابطے میں ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ متاثرین کو فوری امدادی سامان اور ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق اس وقت صوبے کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاؤ معمول کے مطابق ہے، تاہم بارشوں کا سلسلہ 23 جولائی تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس حوالے سے تمام ضلعی انتظامیہ کو پہلے ہی الرٹ جاری کیا جا چکا ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور متعلقہ حکومتی اداروں کی جانب سے جاری کردہ الرٹس اور ایڈوائزریز پر عمل کریں۔
پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، جبکہ عوام کسی بھی ہنگامی صورتحال، موسمی معلومات یا امداد کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
ڈی سی آفس صوابی میں قبضہ مافیا کے خلاف اہم اجلاس
پشاور: حالیہ بارشوں کے باعث ریسکیو 1122 کا ڈی واٹرنگ آپریشن جاری
اورکزئی: پولیس ڈرائیونگ اینڈ ٹریننگ سکول میں چوتھے بیج کا کورس اختتام پذیر
پولیس ڈرائیونگ اینڈ ٹریننگ سکول اورکزئی میں چوتھے بیج کے کورس کی اختتامی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اورکزئی شوکت علی اور ڈپٹی کمشنر اورکزئی یوسف خان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب کے دوران کامیابی سے کورس مکمل کرنے والے شرکاء میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے، جبکہ کے ڈرائیونگ سکول سٹاف میں بھی تعریفی سرٹیفکیٹس تقسیم کئے۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سلمان کنڈی اور پولیس ڈرائیونگ ٹریننگ سکول کا دیگر عملہ بھی موجود تھا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی پی او اورکزئی شوکت علی نے کہا کہ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک قوانین کی پابندی نہ صرف قانون کی بالادستی کو یقینی بناتی ہے بلکہ قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ اور ٹریفک حادثات کی روک تھام میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے لیے عوام میں ٹریفک قوانین سے آگاہی اور شعور اجاگر کرنا ناگزیر ہے۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر اورکزئی یوسف خان نے کہا کہ محفوظ سفر اور منظم ٹریفک نظام کے قیام کے لیے تربیت یافتہ اور ذمہ دار ڈرائیور وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ڈرائیونگ اینڈ ٹریننگ سکول کا یہ اقدام قابلِ تحسین ہے، جو شہریوں میں محفوظ ڈرائیونگ کے فروغ اور ٹریفک حادثات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کورس مکمل کرنے والے شرکاء کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ عملی زندگی میں ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کریں گے اور دوسروں کے لیے بھی ایک مثبت مثال بنیں گے۔







