پشاور: وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ 2026-27 میں ضم شدہ قبائلی اضلاع (سابق فاٹا/پاٹا) کی صنعتوں پر 12 فیصد ٹیکس، تاجروں پر فکسڈ ٹیکس اور انکم ٹیکس کے نفاذ کے خلاف ملاکنڈ ٹریڈ فیڈریشن کی اپیل پر ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ ہڑتال کے باعث درگئی، سخاکوٹ، بٹ خیلہ، تھانہ، مینگورہ، کبل، بونیر، تیمرگرہ اور دیگر علاقوں میں بازار مکمل طور پر بند رہے۔
درگئی میں تاجروں، ٹرانسپورٹرز، مزدور تنظیموں اور مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے احتجاجی ریلی نکالی، جس کی قیادت تاجر رہنماؤں اور مقامی منتخب نمائندوں نے کی۔ مظاہرین نے ملاکنڈ روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا اور وفاقی ٹیکسوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے تاجر رہنماؤں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن، چترال، سوات اور ضم شدہ قبائلی اضلاع جیسے پسماندہ اور متاثرہ علاقوں پر نئے ٹیکسوں کا نفاذ معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان علاقوں کا ترقی یافتہ شہروں سے موازنہ کرکے یکساں ٹیکس عائد کرنا ناانصافی ہے۔
مقررین نے مؤقف اختیار کیا کہ امن و امان کی خراب صورتحال، سرحدی راستوں کی بندش، قدرتی آفات اور صنعتی سرگرمیوں میں کمی کے باعث پہلے ہی مقامی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے، جبکہ صنعتوں پر 12 فیصد ٹیکس سے متعدد صنعتی یونٹس بند ہونے اور سینکڑوں مزدوروں کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے۔
تاجر تنظیموں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی طرز پر ضم شدہ اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن پر عائد ٹیکس فوری طور پر واپس لیے جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں احتجاجی تحریک مزید وسیع کی جائے گی۔
ادھر خیبر، باڑہ، جمرود اور دیگر قبائلی علاقوں کی تاجر تنظیموں نے بھی وفاقی ٹیکسوں کے خلاف جرگوں کا آغاز کر دیا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ قبائلی اضلاع میں سیکیورٹی صورتحال، بار بار کرفیو، سرحدی گزرگاہوں کی بندش اور محدود روزگار کے باعث نئے ٹیکسوں کا نفاذ عوام پر اضافی بوجھ ہے، جس پر فوری نظرثانی کی جانی چاہیے۔


