Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Tuesday, October 6, 2026

جمرود: لینڈ سیٹلمنٹ و اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن، 26 مواضعات میں کام مکمل

جمرود پریس کلب میں لینڈ سیٹلمنٹ اور اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے صحافیوں کے لیے آگاہی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں لینڈ سیٹلمنٹ حکام نے جاری عمل، اس کے طریقہ کار، فوائد اور عوام کے لیے سہولیات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر ایس ڈی سی ار مرج اضلاع واصل خٹک نے سینئر مینجر آپریشنز امتیاز خان و تحصیلدار جاوید خان کے ہمراہ جمرود پریس کلب میں صحافیوں کو بریفنگ میں بتایا کہ خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں لینڈ سیٹلمنٹ کا عمل 2021ء سے جاری ہے، جس کا مقصد پہلی مرتبہ زمینوں کا باقاعدہ، مستند اور ڈیجیٹل ریکارڈ مرتب کرنا ہے۔ضلع خیبر میں اب تک تقریباً ایک لاکھ 47 ہزار شجرہ نسب درج کیے جا چکے ہیں، جبکہ 26 موضع جات میں شجرہ نسب کی تیاری کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔

حکام کے مطابق اب جمرود کے مختلف موضع جات میں مشین بیسڈ اور GIS بیسڈ زمین کی پیمائش کا عملی مرحلہ بھی شروع کیا جارہا ہے، جس کے تحت زمین کی درست پیمائش، حدود اور ملکیتی حقوق کا تعین کیا جائے گا۔ شجرہ نسب کے مطابق ہر فرد اور خاندان کے حصے کی درست نشاندہی بھی ریکارڈ کا حصہ بنائی جائے گی۔

حکام نے بتایا کہ لینڈ سیٹلمنٹ مکمل ہونے کے بعد زمین کا ریکارڈ ڈیجیٹل نظام میں محفوظ ہوگا، جس تک مستقبل میں موبائل اور انٹرنیٹ کے ذریعے رسائی ممکن ہوگی۔ اس جدید نظام سے زمینوں کے ملکیتی تنازعات اور قبضہ و حدود سے متعلق مسائل میں کمی آئے گی جبکہ زمین کی خرید و فروخت، وراثت، منتقلی، بینک قرضوں اور دیگر سرکاری سہولیات کے حصول میں بھی آسانی پیدا ہوگی۔ بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ لینڈ سیٹلمنٹ کے دوران متنازعہ اراضی کے حوالے سے بھی باقاعدہ طریقہ کار اختیار کیا جا رہا ہے۔ اگر کسی متنازعہ زمین کے بارے میں عدالت کا فیصلہ موجود ہو یا فریقین باہمی رضامندی سے تنازع حل کرلیں تو اس فیصلے یا معاہدے کے مطابق ریکارڈ مرتب کیا جائے گا، تاہم زیرِ تنازع زمین کو حتمی طور پر ریکارڈ میں شامل نہیں کیا جائے گا جب تک اس کا تنازع حل نہ ہو۔

حکام کے مطابق زمین کی خرید و فروخت، سابقہ رجسٹریوں، انتقالات، اسٹامپ پیپرز اور دیگر دستیاب دستاویزات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا تاکہ زمینی حقائق اور شجرہ نسب کے مطابق درست ریکارڈ مرتب کیا جا سکے۔ حتمی ریکارڈ کی تیاری اور تصدیق تک ضروری اصلاح اور اعتراض کی گنجائش بھی موجود رہے گی۔ حکام نے کہا کہ ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ نہ صرف شہریوں کے ملکیتی حقوق کو تحفظ فراہم کرے گا بلکہ زمین کی وراثتی اور قانونی منتقلی کو بھی شفاف اور آسان بنائے گا۔ اس کے نتیجے میں آئندہ نسلوں کو زمین کی منتقلی کا ریکارڈ محفوظ طریقے سے دستیاب ہوگا جبکہ زمین کو بطور اثاثہ استعمال کرتے ہوئے بینکوں سے زرعی یا دیگر قرضوں کے حصول میں بھی سہولت پیدا ہوگی۔

لینڈ سیٹلمنٹ حکام کے مطابق اراضی کا درست ریکارڈ زرعی ترقی اور بہتر منصوبہ بندی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ درست ریکارڈ کی بنیاد پر زرعی مشینری، بیج، قرضہ جات اور حکومت کی جانب سے دی جانے والی مختلف سہولیات اور ترقیاتی اسکیموں تک مستحق افراد کی رسائی آسان ہوگی۔ اسی طرح شہری و دیہی علاقوں میں مستقبل کی ترقی اور زمین کے مؤثر استعمال کی منصوبہ بندی بھی بہتر انداز میں کی جا سکے گی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ لینڈ سیٹلمنٹ سے معاشی اور سماجی استحکام کو فروغ ملے گا، کیونکہ زمین کی ملکیت اور حدود واضح ہونے سے تنازعات میں کمی آئے گی، عدالتی مقدمات کم ہوں گے اور شہریوں کے قانونی و مالکانہ حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔

حکام نے بتایا کہ جمرود میں لینڈ سیٹلمنٹ کا دفتر انڈسٹریل اسٹیٹ میں قائم ہے، جہاں عوام کی رہنمائی کے لیے متعلقہ عملہ موجود ہے۔ مختلف موضع جات میں ریونیو اور سیٹلمنٹ عملہ روزانہ کی بنیاد پر کام کر رہا ہے، جبکہ عوام کی سہولت کے لیے رابطہ نمبرز اور ہیلپ لائن بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ لینڈ سیٹلمنٹ کے حوالے سے عوامی آگاہی کے لیے صحافیوں، وکلا، تاجروں، بازاروں اور دیگر عوامی مقامات پر سیشنز کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ حکام کے مطابق GIS بیسڈ پیمائش کے عملی مرحلے کے دوران متعلقہ ٹیمیں مختلف علاقوں میں موجود رہیں گی اور شہریوں کو ریکارڈ، پیمائش اور اعتراضات سے متعلق رہنمائی فراہم کریں گی۔

حکام نے مزید بتایا کہ جمرود کے تمام موضع جات کے لیے باقاعدہ شیڈول مرتب کیا گیا ہے اور اسی کے مطابق مرحلہ وار کام جاری ہے۔ شجرہ نسب مکمل ہونے کے بعد بھی حتمی ریکارڈ کی تیاری تک شہری اپنے ریکارڈ کی جانچ، تصدیق اور ضروری اصلاح کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ سیٹلمنٹ ٹیمیں گھر گھر جا کر بھی معلومات حاصل کر رہی ہیں جبکہ ریکارڈ کی نمائش کے ذریعے شہریوں کو اپنے ملکیتی کوائف اور شجرہ نسب کی جانچ کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ لینڈ سیٹلمنٹ حکام نے عوام پر زور دیا کہ وہ جاری عمل میں بھرپور تعاون کریں، اپنے زمین سے متعلق دستاویزات اور ملکیتی ریکارڈ کی جانچ کریں اور کسی بھی اعتراض یا مسئلے کی صورت میں بروقت متعلقہ لینڈ سیٹلمنٹ دفتر یا ہیلپ لائن سے رابطہ کریں، تاکہ حتمی ڈیجیٹل ریکارڈ میں درست معلومات شامل کی جا سکیں۔ حکام کے مطابق زمین کا مستند، شفاف اور ڈیجیٹل ریکارڈ نہ صرف شہریوں کے مالکانہ حقوق کے تحفظ کی ضمانت ہے بلکہ معاشی ترقی، زرعی بہتری، شفاف وراثتی نظام، تنازعات کے خاتمے اور مستقبل کی مؤثر حکومتی منصوبہ بندی کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

جمرود: لینڈ سیٹلمنٹ و اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن، 26 مواضعات میں کام مکمل

Shopping Basket