خیبر پختونخوا پولیس کو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران اہلکاروں کی محفوظ نقل و حرکت اور زخمی جوانوں کو بروقت طبی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے 10 جدید ایمبولینسز اور 8 بکتر بند گاڑیاں (اے پی سیز) فراہم کر دی گئی ہیں۔ سینٹرل پولیس آفس پشاور میں منعقدہ تقریب کے دوران انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے ایمبولینسز اور اے پی سیز کی چابیاں متعلقہ ریجنل اور ضلعی پولیس افسران کے حوالے کیں۔ اس موقع پر تمام ایڈیشنل آئی جیز، ڈی آئی جیز اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران بھی موجود تھے۔ پولیس کے مطابق فراہم کی جانے والی بکتر بند گاڑیوں میں 6 ضربِ حیدر اور 2 ڈریگون کلاس اے پی سیز شامل ہیں۔ یہ گاڑیاں پشاور، چارسدہ، لوئر دیر، اپر دیر، کوہاٹ، کرک، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، ایبٹ آباد اور شانگلہ کے پولیس افسران کے حوالے کی گئیں۔ آئی جی پی ذوالفقار حمید نے گاڑیوں کا معائنہ کیا اور ان کی خصوصیات اور کارکردگی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ لی۔ انہوں نے کہا کہ جدید اے پی سیز کی فراہمی کا مقصد ہنگامی حالات اور آپریشنز کے دوران پولیس اہلکاروں کی محفوظ نقل و حرکت یقینی بنانا اور ان کی قیمتی جانوں کا تحفظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبی آلات اور ضروری سہولیات سے لیس جدید ایمبولینسز فیلڈ میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کو فوری ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے اور کم سے کم وقت میں ہسپتال منتقل کرنے میں مدد دیں گی۔ ذوالفقار حمید کے مطابق خیبر پختونخوا پولیس گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن فورس کے طور پر کردار ادا کر رہی ہے، جس کے دوران آئی جی سے لے کر سپاہی تک متعدد اہلکاروں نے جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں پولیس فورس کو جدید سازوسامان اور ضروری سہولیات سے لیس کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، جبکہ مزید ضروریات پوری کرنے کے لیے خصوصی سمریز صوبائی حکومت کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔


