پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے سیکنڈری ہیلتھ کیئر ری ویمپ پروگرام کے تحت 32 ماہرینِ نفسیات کی تعیناتی کے احکامات جاری کر دیے ہیں، جنہیں صوبہ بھر کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں (DHQs) میں خدمات سرانجام دینے کے لیے تعینات کیا جائے گا۔
تقریب میں صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان، سیکرٹری صحت شاہد اللہ خان اور ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر شاہین آفریدی نے شرکت کی اور نئے بھرتی ہونے والے ماہرین میں تقرری نامے تقسیم کیے۔

صوبائی وزیر صحت نے اس موقع پر کہا کہ ماہرینِ نفسیات کی DHQs میں تعیناتی سے ضلعی سطح پر ذہنی صحت کی معیاری اور بروقت سہولیات میسر آئیں گی اور عوام کو علاج کے لیے بڑے شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ انہوں نے بتایا کہ بھرتی کا عمل مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر انجام دیا گیا ہے۔
انہوں نے نئے تعینات ہونے والے ماہرین کو ہدایت کی کہ وہ ایمانداری، لگن اور جذبۂ خدمت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں اور محکمہ صحت کے لیے ایک مضبوط اثاثہ ثابت ہوں۔
وزیر صحت نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ دہائیوں کے دوران بدامنی، نقل مکانی اور قدرتی آفات کے باعث ذہنی امراض کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث بروقت تشخیص اور علاج ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈپریشن، اضطراب اور پی ٹی ایس ڈی جیسے مسائل بڑی تعداد میں افراد کو متاثر کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں قائم کیے جانے والے مینٹل ہیلتھ ڈیسک اسکریننگ، مشاورت اور ریفرل کے مؤثر نظام کو یقینی بنائیں گے، جبکہ خواتین اور نوجوانوں کے لیے محفوظ اور باوقار ماحول میں سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ضلعی سطح پر ڈیٹا اکٹھا کر کے مستقبل کی پالیسی سازی میں بھی مدد حاصل کی جائے گی۔
صوبائی وزیر نے اعلان کیا کہ حکومت ذہنی صحت سے متعلق ایک جامع عوامی آگاہی مہم شروع کرے گی جس میں علمائے کرام اور مقامی عمائدین کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ معاشرتی سطح پر ذہنی صحت سے جڑے منفی تصورات (اسٹیگما) کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کے لیے اسکولوں، کالجوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے خصوصی آگاہی مہمات چلائی جائیں گی تاکہ نئی نسل کو بروقت رہنمائی اور شعور فراہم کیا جا سکے۔
آخر میں خلیق الرحمان نے تمام ماہرینِ نفسیات کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ وہ پیشہ ورانہ مہارت، اعلیٰ اخلاقی اقدار اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں۔


