وصال محمدخان
کرکٹ سٹیڈیم میں صوبائی اسمبلی کامنعقدہ اجلاس، مشق لاحاصل کے سواکچھ نہیں
اپوزیشن کابائیکاٹ صوبے کے واحدبین الاقوامی کرکٹ سٹیڈیم پر کھیل کی بجائے سیاسی شو،شائقین مایوس،گیٹ بند
گزشتہ اتوارکووزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مردان جلسے میں اعلان کیاکہ وہ صوبائی اسمبلی کااجلاس اسمبلی ہال کی بجائے کسی عوامی مقام پر منعقد کرینگے سپیکرنے انکی خواہش کے احترام میں عمران خان کے نام سے منسوب شدہ سابقہ ارباب نیازکرکٹ سٹیڈیم میں اجلاس بلالیا۔مذکورہ سٹیڈیم نومبر 1984ء میں اس وقت کے صدرمملکت جنرل ضیاء الحق کے احکامات پر پشاور ڈو یلپمنٹ اتھارٹی نے تعمیرکروایا۔سٹیڈیم کواس وقت کے وفاقی وزیرکھیل ارباب نیازسے منسوب کیاگیا جنہوں نے صوبے کو انٹرنیشنل کرکٹ سے روشناس کروانے میں اہم کرداراداکیا۔ سٹیڈیم کانام ابتدامیں شاہی باغ سٹیڈیم تھامگر1987ء میں میونسپل کارپوریشن پشاورنے نام بدل کرارباب نیاز انٹر نیشنل کرکٹ سٹیڈیم رکھا۔ سٹیڈیم میں کئی بین الاقوامی ٹیسٹ اورون ڈے میچزکاانعقادہوچکاہے مگرنائن الیون کے بعد صوبے میں خراب امن وامان کے پیش نظر یہا ں ہرقسم کی کرکٹ معطل ہوگئی۔پرویزخٹک دورِحکومت میں سٹیڈیم کی تزئین وآرائش اور توسیعی منصوبہ سامنے آیا جو محمود خان اور بعد ازا ں علی امین گنڈاپورکی حکومتوں میں بھی جاری رہا حالانکہ ا بتدامیں دعویٰ کیاگیاتھا کہ چندماہ کے اندریہ کام مکمل کیاجائیگامگر تقریباًایک عشرے تک یہ کام جاری رہا۔ہرپی ایس ایل کے وقت دعویٰ کیاگیاکہ اس بارسٹیڈیم میں میچز منعقد ہونگے مگر توسیعی کام نامکمل ہونے کے سبب ایساممکن نہ ہوسکا۔حالیہ پی ایس ایل ایڈیشن میں پشاورکوایک میچ دیاگیاتھا۔خلیج جنگ کے باعث چونکہ پوراایڈیشن لاہور اورکراچی میں کرانے کافیصلہ ہوااسلئے یہ سٹیڈیم تاحال کھیلوں کی سرگرمیوں سے محروم ہے مگرموجودہ حکومت نے اسے سیاست کیلئے بروئے کارلانے کا کارنامہ انجام دے دیا۔علی امین گنداپور حکومت نے گزشتہ برس سٹیڈیم کانام تبدیل کرکے عمران خان سے منسوب کیاجس پراپوزیشن اور پشاور کے مقامی حلقوں نے خاصا شورمچایا مگرحکومت نام تبدیل کرنے پراڑگئی۔اب اسی سٹیڈیم میں صوبائی اسمبلی کا اجلا س منعقد کیا گیا جس کا بظاہرکوئی مقصد نظرنہیں آرہا سوائے ان حکومتی دعوؤں کے کہ ہم نے اسمبلی اجلاس کوبندکمروں سے نکال کرکھلے ماحول میں منعقد کیا۔ پیپلز پارٹی کے سوا اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے اس اجلاس کابائیکاٹ کیا۔اپوزیشن لیڈرڈاکٹر عباد اللہ کی زیرصدارت اپوز یشن جماعتوں کے منعقدہ اجلاس میں تمام جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرزنے منفرداجلاس کے بائیکاٹ کافیصلہ کیا۔ اپوزیشن لیڈر کا اس حوالے سے کہناتھا کہ ’’اسمبلی بلڈنگ موجودہونے کے باوجودسٹیڈیم میں اجلاس کااقدام غیرضروری اورقومی وسائل کاضیاع ہے اس اقدا م سے عوام کوبے جا اذیت دی جارہی ہے،یہ اقدام سیاسی شو،نمائشی سرگرمی اور سرکاری وسائل کو ذاتی تشہیرکیلئے استعمال کرنے کے سوا کچھ نہیں،سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران ایسے اقدامات پرسوالیہ نشان ثبت ہیں،ہزاروں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی سے نہ صرف اضافی اخراجات ہوئے بلکہ سیکیورٹی پلانز بھی متاثرہوئے،معاشی مشکلات کاشکاراور 9سوارب روپے کے مقروض صوبے پرنامناسب بوجھ ڈالاگیا یہ بچگانہ اقدام کسی صورت قابل قبول نہیں، ہم سرکاری وسائل کے بے جا استعمال کیخلاف عدالت سے رجوع کرینگے“۔بہرحال سٹیڈیم میں اجلاس دو گھنٹے تاخیرسے شروع ہوا۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کاخطاب جاری تھاکہ تیزآندھی اورپھربارش شروع ہوئی۔جس سے وزیر اعلیٰ کو خطاب مختصرکرکے جانا پڑا۔ جس اجلاس پرلاکھوں روپے خرچ ہوئے اس سے عوام کوکوئی فیض نہ مل سکا، گیٹ بندتھے جس سے اجلاس دیکھنے کے شائقین کومایوس لوٹناپڑا۔ اجلاس میں چندگھسی پھٹی تقریروں کے سوا کوئی خاص کارروائی بھی ممکن نہ ہوسکی۔آندھی کے دوران کوئی وزنی چیزگرنے سے سیکیورٹی افسراحسن اقبال کے سرپرگہری چوٹ آئی جنہیں بعدازاں ہسپتال منتقل کیاگیا جبکہ سڑکوں کی بندش سے شہریوں کوشدیدمشکلات کاسامنارہا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خطاب میں کہاکہ ”عمران خان اورانکی اہلیہ کوناحق قیدکیاگیاہے اورمجھے ان سے ملنے بھی نہیں دیاجارہاحالانکہ اس حوالے سے اسلام آبادہائیکورٹ کاحکم بھی موجودہے مگر وزیر اعظم نے مجھے جواب دیاکہ وہ پوچھ کربتائیں گے“۔اس طرح یہ منفرد اجلاس بغیرکوئی خاص کارروائی ملتوی ہوا۔ سپیکربابر سلیم سواتی کے مطابق اسمبلی اجلاس کا کسی سٹیڈیم میں انعقادتاریخ سازلمحہ ہے۔سپیکراس بھونڈی حرکت کوتاریخ سازلمحہ کیوں نہ قراردینگے انکی تنخواہ اورمراعات کیلئے 1973ء ایکٹ میں ترامیم کابل صوبائی اسمبلی میں پیش کیاجا چکا ہے جس کے تحت سپیکراورڈپٹی سپیکرمنصب سے اترنے کے بعدبھی سرکاری مراعات حاصل کرنے کے حقدارہونگے۔مجوزہ ترامیم میں انہیں ریٹائرمنٹ کے بعداسمبلی سیکرٹریٹ سے ایک گریڈ17کاسیکرٹری،معاون،باورچی اورڈرائیوررکھنے کااستحقاق حاصل ہوگا،گرفتاری سے مستثنیٰ قراردینے،قانون نافذکرنیوالے اداروں کوچھاپے سے روکنے،اسمبلی تحلیل ہونے کے باوجودبحیثیت سپیکروڈپٹی سپیکرسرکاری مراعات حاصل کرنے، دفتراورگھرپردوفون،انٹرنیٹ،موبائل فون،بیوہ بچوں سمیت ہوائی یاریل مفت سفر،دوملازم ساتھ رکھنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔عوامی حلقے مراعات بل پرناپسندیدگی کااظہارکررہے ہیں۔سوشل میڈیاپربھی یہ مراعات شدیدتنقیدکی زدمیں ہیں۔
دیگر تینوں صوبوں کے دورے کرنے کے بعداب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی آزادکشمیرکادورہ کررہے ہیں۔یہ دورہ 25اپریل سے شیڈول ہے اس سلسلے میں تحریک انصاف آزادکشمیرکے ایک وفدنے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی جس میں دورۂ کشمیرپرتبادلہ خیال کیاگیا۔اس موقع پروزیر اعلیٰ کاکہناتھاکہ یہ دورہ بانی کی ہدایت پرجاری عوامی تحریک کاتسلسل ہے جسے مزیدمؤثراندازمیں آگے بڑھایاجائیگا۔ وفدکے اراکین نے اس موقع پرکہاکہ کشمیری عوام میں جوش وخروش پایاجاتاہے اوران کاتاریخی استقبال کیاجائیگا۔
ریڈیوپاکستان کی جانب سے 9مئی مقدمات کی جلدسماعت کیلئے درخواست
ریڈیوپاکستان اب 9مئی واقعات کومنطقی انجام تک پہنچانے کیلئے سرگرم نظرآرہاہے۔انسداددہشتگردی کی عدالت میں 9مئی 2023ء کو ریڈیوپاکستان حملہ کیس میں پراسیکیوشن کی جانب سے چالان پیش کرنے میں تاخیرکے خلاف دائردرخواست پرجواب طلب کرلیاگیا۔ ڈائر کٹر ریڈ یوپاکستان کی جانب سے دائرکردہ درخواست میں مؤقف اپنایاگیاہے کہ 9 مئی 2023کوریڈیوپاکستان پرحملے اورتوڑپھوڑکے واقعات کودوسال سے زائدکاعرصہ گزرچکاہے تاہم ابھی تک کیس میں چالان جمع نہیں کیاگیا۔مقدمے میں پی ٹی آئی کے سابقہ اورموجودہ ایم این ایز،ایم پی ایزاوراہم قائدین نامزدہیں جبکہ کیس میں وزیراعلیٰ سمیت کئی دیگرملزمان کی تصدیق پنجاب فارنزک لیب اورنادراسے ہوچکی ہے۔بااثرملزمان کے سبب تاخیری حربے آزمائے جارہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے مقررکردہ سپیشل پراسیکیوٹرکوچالان فوری طور پر جمع کروانے کاحکم جاری کیاجائے،اگروہ عمل نہیں کرتے توانکے خلاف قانونی کارروائی کی جائے عدالت نے فریقین کونوٹس جاری کر تے ہوئے سماعت28اپریل تک ملتوی کردی۔یادرہے 9مئی واقعات کاکیس انسداددہشتگردی عدالت میں زیرسماعت ہے مگرتین سال کا عرصہ بیت جانے کے باوجودکیس میں کوئی خاص پیشرفت نہیں ہورہی۔ وزیراعلیٰ سمیت کئی اہم قائدین مذکورہ مقدمے میں مطلوب ہیں۔
کوہستان کرپشن سکینڈل،مرکزی ملزم ٹھیکیدارکی 3ارب86کروڑروپے کی پلی بارگین منظور
پشاورکی احتساب عدالت نے کوہستان میگاکرپشن سکینڈل کے مرکزی ملزم ٹھیکیدارمحمدایوب کی 3ارب86کروڑروپے کی پلی بارگین درخواست منظورکرلی ہے۔ملزم کے وکیل نے عدالت کوبتایاکہ نیب نے محمدایوب کوگرفتارکیاجواس وقت سینٹرل جیل میں زیرحراست ہیں، ملزم نے نیب کو3ارب 86کروڑروپے کی پلی بارگین درخواست دی ہے جسے ڈی جی اورچیئرمین نیب کی منظوری کے بعداب عدالت سے توثیق ضروری ہے،ملزم نے پلی بارگین کیلئے مختلف جائیدادیں،گاڑیاں اورنقد رقم بطورضمانت دی،جبکہ مختلف جائیدادمالکان بھی عدالت میں پیش ہوئے جواپنی جائیدادیں بطورضمانت رکھواناچاہتے ہیں۔چونکہ محمدایوب سے ریکوری کاطریقہ کارطے ہوچکاہے اسلئے عدالت بھی اسکی توثیق کرکے رہائی کاحکم جاری کرے۔نیب کے مطابق ملزم نے نیب آرڈ یننس 1999ء سیکشن25بی کے تحت پلی بارگین کی درخواست دی۔پلی بارگین میں سینیٹراعظم سواتی کابیچاگیامکان بھی شامل ہے۔یادرہے ملزم کے نام پرمختلف پراپرٹیز،پلاٹس اورایک لینڈکروزرگاڑی موجودہے۔

