Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, April 17, 2026

خیبرپختونخواراؤنڈاَپ

وصال محمدخان

حکمران جماعت کاراولپنڈی جلسہ ملتوی ہونے کے بعدمردان میں جلسہ

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 9اپریل کولیاقت باغ راولپنڈی میں عمران خان حکومت کی رخصتی والے دن کی مناسبت سے جلسہ منعقدکرنے کااعلان کیاتھا۔ مگراسلام آبادمیں ایران امریکہ مذاکرات کے پیش نظرجلسہ ملتوی یامؤخرکردیا گیا۔اب مردان میں جلسہ کرنے کااعلان کیا گیاہے جس کیلئے یہ توجیح پیش کی جارہی ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے راولپنڈی جلسہ ملتوی ہونے پر خیبر پختونخوامیں ایک بڑاجلسہ منعقد کرنیکی ہدایت کی ہے۔بدقسمتی سے مردان میں جلسہ کرنے کیلئے کوئی بڑاگراؤنڈیامیدان موجودنہیں۔ پی ٹی آئی نے گزشتہ تینوں انتخابات میں تحصیل سطح پرپلے گراؤنڈزبنانے کاوعدہ کررکھاہے مگرصوبے کے دوسرے بڑے شہراورڈویژنل ہیڈکوارٹرمردان میں جلسہ کرنے کیلئے کوئی میدان دستیاب نہیں اسلئے وزیراعلیٰ وفاقی حکومت کیخلاف وفاق کی ملکیتی ریلوے گراؤنڈمیں جلسہ عام سے خطاب فرمائینگے۔ ریلوے گراؤنڈکوئی میدان نہیں بلکہ عہدِرفتہ کی یادگار مردان ریلوے سٹیشن کی وہ جگہ ہے جوریلوے لائن اورمردان نوشہرہ جی ٹی روڈکے درمیان واقع ہے۔یہ چھوٹی سی اورتنگ جگہ ہے اگرچہ ماضی میں اے این پی سمیت دیگرجماعتیں بھی اس مقام پرجلسے کرچکی ہیں مگر یہاں کوئی عظیم الشان جلسہ منعقد کرنا ممکن نہیں۔

مولانافضل الرحمان کاسپورٹس کمپلیکس میں جلسہ،نوجوانوں کی ناپسندیدگی

گزشتہ اتوارکومولانافضل الرحمان نے بھی مردان سپورٹس کمپلیکس میں جلسہ کیاجومردان میں واحد کھیلوں کا میدان ہے جسے امیر حیدر ہوتی نے اپنی حکومت میں تعمیرکروایاہے جومردان کے نوجوانوں کیلئے نعمت غیرمترقبہ سے کم نہیں۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پلے گراؤنڈمیں جلسے کی اجازت دینے پر مقامی نوجوان حلقوں نے تشویش کااظہارکیا کیونکہ اس عمل سے میدان کونقصان پہنچنے کا اندیشہ تھااورکئی دنوں تک گراؤنڈمیں کھیلوں کی سرگرمیاں بھی معطل رہیں۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاکہناتھاکہ”مردان جلسہ ملکی سیاست کا فیصلہ کن اورتاریخی اجتماع ثابت ہوگاجس سے دنیاکو پیغام جائیگاکہ تمامترسیاسی انتقام،قیدوبنداورریاستی جبرکے باوجودتحریک انصاف ملک کی مقبول جماعت اوربانی ملک کے مقبول ترین سیاسی لیڈرہیں جوجیل میں بیٹھ کربھی سیاسی سرگرمی کرسکتے ہیں،بعض عناصر جلسے کوتنقید کا نشانہ بنارہے ہیں مگر کارکن اس پروپیگنڈے سے بچیں اوربانی پی ٹی آئی کی ہدایات پرعمل کرتے ہوئے جلسہ کامیاب بنائیں“۔ حکمران جماعت کی جانب سے جلسوں احتجاج اوران میں وزرائے اعلیٰ کی شرکت پرانی روایت ہے جسے اب صوبے کے سنجیدہ وفہمیدہ حلقے شدید تنقیدکانشانہ بنارہے ہیں۔ ایک حلقے کاکہناہے کہ عمران خان وزیراعلیٰ اورحکومت کوجلسوں کیلئے ہدایات دیتے ہیں مگرگڈگورننس اور کرپشن کے خاتمے کیلئے کوئی ہدایت نہیں دی جارہی جس کے نتیجے میں حکومت شتربے مہاربن چکی ہے۔کرپشن کی داستانیں عام ہیں گڈ گور ننس کمیٹی بھی غیرفعاال ہے اسکے سربراہ قاضی انورایک دن کسی وزیرکے بارے میں شکایات وصول ہونے کی بات کرتے ہیں تودوسرے دن اس سے روگردانی اختیار کر لیتے ہیں۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کوعہدہ سنبھالے چھ ماہ کاعرصہ گزرچکاہے مگراس عرصے میں انکی تمامترتوجہ سیاسی معاملات پرہے جس سے حکومتی ذمہ داریاں متاثرہورہی ہیں۔ان کابیشتروقت اسلام آباد،دیگرصوبوں کے دوروں یاپھرجلسوں سے خطاب میں گزرتاہے مخالفین یہ بھپتی بھی کستے ہیں کہ وزیراعلیٰ ہفتے میں ایک دودن کیلئے صوبے کے دورے پرآتے ہیں۔ان حالات میں ایک بارپھروزیراعلیٰ کی تبدیلی بارے خبریں زیرگردش ہیں۔تحریک انصاف کے کچھ حلقے کھل کرکہہ رہے ہیں کہ سہیل آفریدی سے علی امین گنڈاپورچنداں بہتر تھے۔انکے دورمیں حکومتی معاملات بھی قدرِاچھے چل رہے تھے،وہ راستے نکالناجانتے تھے اورانکی کوششوں سے اڈیالہ جیل میں ملاقاتیں بھی ہوجاتی تھیں۔

افغان مہاجرین کی واپسی میں تیزی کیلئے اقدامات،لنڈی کوتل میں دوسراہولڈنگ سنٹرقائم

کمشنرپشاورکی صدارت میں افغان مہاجرین کی واپسی کے حوالے سے اجلاس ہواجس میں اعلیٰ حکام کے علاوہ افغان قونصلرجنرل حافظ محب اللہ نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں افغان مہاجرین کو دی جانیوالی سہولیات اوردرپیش مسائل کاجائزہ لیاگیا۔ لنڈی کوتل میں دوسرا ہولڈنگ سنٹر قائم کرنے،نادراکاؤنٹرز22سے بڑھاکر40کرنے، اوقات کاررات11بجے تک بڑھا نے اورواپس جانیوالو ں کواضافی سہولیات فراہم کرنے کافیصلہ کیاگیا۔ رش سے بچنے کیلئے اضلاع کی سطح پر رجسٹر یشن کیمپس قائم کئے جائینگے جن میں پانی،خوراک اورسیکیور ٹی یقینی بنائی جائیگی۔کمشنرپشاورنے ڈپٹی کمشنرخیبرکولنڈی کوتل کادورہ کرنے،افغان مہاجرین کی واپسی میں تیزی لانے اوراضافی سہولیات کیساتھ الگ ہولڈنگ سنٹرقائم کرنیکی ہدایات جاری کردیں۔حکومتی اقدامات سے ظاہرہورہاہے کہ افغان مہاجرین کی واپسی کوسنجیدہ لیاجا رہا ہے۔صوبائی حکومت نے افغانستان میں پھنسے ایک ہزار افرادکی واپسی کیلئے ابتدائی طورپر افغان قونصلیٹ کوچھ سوافرادکی لسٹ بھی فراہم کی ہے یہ افرادکشیدگی بڑھنے سے پہلے افغانستان میں موجود تھے۔

کیلاش کمیونٹی شادی بل اورہندوشادی ترمیم بل2026 اسمبلی میں پیش،رکن اسمبلی سریش کمارکی تنقید

کیلاش کمیونٹی کی شادیوں کی باقاعدہ رجسٹریشن اورقانونی تحفظ کیلئے کیلاش میرج بل 2026ء اورہندومیرج ترمیمی بل 2026ء صوبائی اسمبلی میں پیش کردئے گئے ہیں۔ ہندواقلیتی رکن سریش کمارنے ہندومیرج بل پرتحفظات کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ یہ مذہبی نوعیت کاحسا س معاملہ ہے،145رکنی ایوان میں وہ واحد ہندورکن ہیں مگرانکے ساتھ مشاورت نہیں کی گئی،بل کوترامیم کیلئے این جی اوز کے سپرد کرنا مناسب نہیں جبکہ مجوزہ ترامیم کاہندومیرج ایکٹ سے براہ راست تعلق بھی نہیں،بل کی ہیڈنگ تبدیل کی جائے اوراس کاتفصیلی جائزہ لینے کیلئے ہندوسکالرزکوبھی شامل کیاجائے۔وزیرقانون آفتاب عالم نے وضاحت دیتے ہوئے کہاکہ یہ دراصل وفاقی قانون کے تحت آتا ہے، آئین کے آرٹیکل 144کے تحت صوبہ اس میں ترامیم تجویزیامنظورکرسکتاہے۔قائمہ کمیٹی میں بل پربحث ہوگی اورمتعلقہ سٹیک ہولڈرز کو رائے دینے کاموقع فراہم کیاجائیگا۔سپیکرنے بل متعلقہ کمیٹی کے سپردکرکے ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ کیلاش میرج بل کے مطابق کیلاش قبیلے میں شادی دونوں فریقوں کی رضامندی سے ہوگی،ذہنی صحت،عمرکی حد18سال اور ممنوعہ رشتوں کی شادی سے اجتناب جیسی شرائط شامل ہیں، کزن میرج کی ممانعت ہوگی،شادی کی رجسٹریشن مقامی رجسٹرا رکے ذریعے لازمی ہوگی، شادی اور طلاق کاریکارڈسرکاری دفاترمیں محفوظ کیاجائیگا،قبیلے میں طلاق،علیٰحدگی اورشادی کاخاتمہ کیلاش روایات کے مطابق ہوگا،شوہرکی وفات کے بعدجائیدادکے حقوق روایتی نظام کے مطابق ہونگے۔قانون کی خلاف ورزی،جھوٹی معلوما ت اور رجسٹریشن کی خلاف ورزی پر جرمانے اورقیدکی سزائیں دی جاسکیں گی۔شادی کی بات چل نکلی ہے تویہ بھی بتادوں کہ صوبائی حکومت نے سرکاری ملازمین کے غیرملکی شہری سے شادی کرنے پرپابندی عائدکردی ہے۔تاہم حکومت کی پیشگی اجازت سے کسی ایسے ملک کے شہری سے شادی ممکن ہے جسے ریاست پاکستان تسلیم کرتاہو۔اس سے قبل سرکاری ملازمین کیلئے غیرملکی شہری سے شادی پرپابندی نہیں تھی پابندی کااطلاق خواتین و حضرات سرکاری ملازمین پرہوگا۔

مرادسعیدکی نااہلی سے خالی ہونیوالی سینیٹ نشست پرمقابلے کیلئے اپوزیشن کامتفقہ امیدوارمتوقع

مرادسعیدکی نااہلی سے خالی ہونیوالی سینیٹ نشست پرمقابلے کیلئے اپوزیشن کامتفقہ امیدوارلانے کی تگ ودوہورہی ہے۔اس سلسلے میں جے یوآئی کے دفتر مفتی محمودمرکزپشاورمیں اپوزیشن جماعتوں کاایک اجلاس منعقد ہوا۔جس میں اے این پی،مسلم لیگ ن،پی ٹی آئی پی اور پیپلزپارٹی کے صوبائی عہدیداروں نے شرکت کی۔مولاناعطاء الحق درویش کے مطابق سینیٹ انتخابات میں مشترکہ امیدوارلانے کافیصلہ کیا گیاہے جس کااعلان ایک دوروز میں کیاجائیگا۔اس نشست پرانتخاب 23اپریل کوشیڈول ہے۔

وائس آف کے پی اور اسکی پالیسی کا لکھاری کی رائے سے متفق ہوناضروری نہیں ہے۔

خیبرپختونخواراؤنڈاَپ

Shopping Basket