عقیل یوسفزئی
سابق افغان صدر حامد کرزئی نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر افغانستان کے اندر ایسے گروپ موجود ہیں جو پاکستان پر حملوں میں ملوث ہیں تو وہ یہاں سے نکل جائیں یا ان کو نکال دیا جائے کیونکہ اس مسئلہ کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ دونوں ممالک کے تعلقات بری طرح متاثر ہوئے ہیں بلکہ پاکستان نے افغانستان کے اندر مختلف کارروائیاں کیں جو کہ افسوس ناک اور تشویش ناک بات ہے ۔ ان کے بقول افغانستان کے عوام خصوصی طور پر خواتین اور لڑکیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ ملک کے معاشی اور سیاسی معاملات بھی دن بدن خراب ہوتے جارہے ہیں اور امن و امان کی صورتحال بھی پچھلے برسوں کے دوران خراب ہوگئے ہیں ۔ ان تمام مسایل کا ادراک کرتے ہوئے موجودہ حکمرانوں کو ان کا حل نکالنے کی ضرورت ہے ۔
دوسری جانب افغانستان کے متعدد نان پشتون لیڈروں اور گروپوں نے افغان طالبان اور ان کے حامیوں کی جانب سے پاکستان مخالف پروپیگنڈا کی مخالفت کی ہے اور ڈیورنڈ لائن کے ایشو پر سیاست کرنے کی مہم کو غیر ضروری قرار دیا ہے ۔
سینئر افغان لیڈر استاد محقق نے ایک بار پھر ڈیورنڈ لائن کو مستقل سرحد تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ افغان نہیں بلکہ خراسانی اور ہزاروی ہیں ۔ سابق اہم فوجی عہدے دار جنرل سمیع سادات پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ڈیورنڈ لائن کا معاملہ افغانستان کی بجائے پاکستان کے پشتونوں کا ایشو ہے ۔
عرب میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ یو اے ای کے وزیر خارجہ نے گزشتہ روز ایک بار پھر ٹیلی فونک رابطہ کے دوران افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نارمل کرنے کے لیے اقدامات کریں ۔
ادھر خیبرپختونخوا کی پولیس نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جنوری 2026 سے مارچ 2026 کے درمیان خیبرپختونخوا کے 14 اضلاع میں دہشت گرد کارروائیاں کی گئیں اور یہ کہ صوبے میں اس سلسلے میں 474 کی مقدمات درج کیے گئے ۔ رپورٹ کے مطابق اس دوران جہاں ایک طرف مختلف کارروائیوں کے نتیجے میں 85 دہشت گرد ہلاک کئے گئے اور 1235 کو شیڈول فورتھ میں ڈالا گیا وہاں دوسری جانب دہشت گرد حملوں میں 71 پولیس ، 27 ایف سی اہلکار شہید جبکہ 150 سے زائد زخمی ہوئے ۔ یہ بھی بتایا گیا ہے ان حملوں میں 67 شہری شہید جبکہ 298 زخمی ہوگئے ہیں جبکہ پاکستان فوج کے شہداء کی تعداد اس رپورٹ میں 21 بتائی گئی ہے ۔
یہ رپورٹ یہ بات واضح کرنے کے لیے کافی ہے خیبرپختونخوا کو فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کے باوجود بدامنی کی لہر کا سامنا ہے مگر پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت ان چیلنجز سے یا تو لاتعلق ہیں یا بلا واسطہ دہشت گرد گروپوں اور افغان طالبان کی حمایت کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں ۔
پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے جہاں گزشتہ دنوں افغانستان سے دہشت گردوں کی تشکیلات کی متعدد کوششیں ناکام بنائیں وہاں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں متعدد کارروائیاں کرتے ہوئے درجنوں خوارج کو ہلاک بھی کردیا ہے جن میں وہ 22 دہشت گرد بھی شامل ہیں جن کو خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر میں ہلاک کردیا گیا اور ان میں سے متعدد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ افغان شہری تھے ۔ اسی طرح بلوچستان میں گزشتہ روز کالعدم ٹی ٹی پی کے 3 جبکہ بی ایل اے کے 5 کمانڈروں کو بھی پاکستان کی فورسز نے ہلاک کردیا ہے ۔
اس تمام صورتحال کے تناظر میں یہ بات بار بار سامنے آتی رہی ہے کہ افغان رجیم عالمی دباؤ اور پاکستان کی کارروائیوں کے باوجود اب بھی دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس تمام ” گیم ” کو بلاشبہ پاکستان کے روایتی دشمن بھارت کی سرپرستی بھی حاصل ہے ۔

