پشاور: فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پاسکو کے ذریعے خیبرپختونخوا کو گندم کی فراہمی کے احکامات پر وہ وزیراعظم کے شکر گزار ہیں، تاہم صوبے کو اس کی ضروریات کے مطابق مکمل سپلائی میں تاخیر اور رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
گورنر کے مطابق خیبرپختونخوا کو مجموعی طور پر 36 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی ضرورت ہے، جبکہ وزیراعظم کی جانب سے پاسکو کے ذریعے صرف 2 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی منظوری دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ باقی گندم کی پنجاب سے فری ترسیل تاحال معطل ہے، جبکہ پنجاب سے ملحقہ نو چیک پوسٹوں کے ذریعے خیبرپختونخوا کو گندم اور آٹے کی فراہمی نہیں کی جا رہی۔
فیصل کریم کنڈی نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین اور نئی گندم پالیسی کے تحت آٹے اور گندم کی آزادانہ ترسیل صوبے کا حق ہے، اور اس حق سے عوام کو محروم رکھنا قابل قبول نہیں۔
انہوں نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ چیک پوسٹوں کی صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے اور خیبرپختونخوا کے لیے گندم اور آٹے کی بلا تعطل ترسیل یقینی بنائی جائے۔
گورنر نے کہا کہ پاسکو کے علاوہ دیگر ذرائع سے بھی صوبے کی ضروریات کے مطابق گندم کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو سستے آٹے کی دستیابی متاثر نہ ہو۔


