پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (پیوٹا) نے گزشتہ دو ماہ سے پشاور یونیورسٹی کے اساتذہ، ملازمین اور پنشنرز کو تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ سے فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔
پیوٹا کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ مسلسل دو ماہ سے تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی کے باعث سینکڑوں خاندان شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں اور ان کے لیے روزمرہ ضروریات پوری کرنا بھی دشوار ہو چکا ہے۔
تنظیم نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس سنگین بحران کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ اور صوبائی حکومت نے صورتحال کے حل کے لیے مطلوبہ سنجیدگی اور فوری اقدامات کا مظاہرہ نہیں کیا، جس سے اساتذہ، ملازمین اور پنشنرز کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
پریس ریلیز میں کہا گیا کہ صوبے کی تاریخی درسگاہ مالی بحران اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، جس سے نہ صرف ملازمین کی فلاح متاثر ہو رہی ہے بلکہ اعلیٰ تعلیم اور تحقیقی سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
پیوٹا نے یونیورسٹی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ معمول کی دفتری کارروائیوں تک محدود رہنے کے بجائے صوبائی حکومت کے ساتھ مستقل، مؤثر اور نتیجہ خیز مذاکرات کرے تاکہ مالی بحران کا پائیدار حل نکالا جا سکے۔
اساتذہ تنظیم نے صوبائی حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بجٹ میں یونیورسٹی کے مالی بحران کے حل کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص نہیں کیے گئے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ حکومت قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ہر ممکن مالی ذریعہ استعمال کرے، حتیٰ کہ صوبائی زکوٰۃ فنڈ یا “ریوائٹلائزیشن آف پشاور پراجیکٹ” کے فنڈز سے بھی یونیورسٹی کو فوری مالی معاونت فراہم کی جائے تاکہ واجب الادا تنخواہیں اور پنشن ادا کی جا سکیں۔
پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ گزشتہ ایک دہائی سے خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات مسلسل مالی مشکلات، کم فنڈنگ، انتظامی مداخلت اور خودمختاری میں کمی جیسے مسائل کا شکار ہیں، جس سے اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
پیوٹا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تدریسی برادری نے ہمیشہ صبر اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم اس صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے، اور حکومت فوری اقدامات کرے تاکہ صوبے کے اس اہم تعلیمی ادارے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

