وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے “خیبر پختونخوا اوپن وائی فائی” منصوبے کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ ابتدائی مرحلے میں پشاور میں سرکاری ہسپتالوں اور پبلک ٹرانسپورٹ مقامات پر مفت وائی فائی فراہم کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ کا خیبرپختونخوا کی تمام سرکاری جامعات اور کالجوں میں بھی مفت وائی فائی فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ پہلے مرحلے میں پشاور کے تمام اہم سرکاری مقامات پر مفت وائی فائی فراہم کی جائے گی۔ اگلے مرحلے میں ایبٹ آباد، مردان، سوات، کوہاٹ، بنوں اور ڈی آئی خان سمیت تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز تک منصوبہ توسیع دیا جائے گا۔ خیبرپختونخوا تقریباً 70 سے 80 فیصد ڈیجیٹل گورننس کی جانب پیش رفت کر چکا ہے۔ حکومت تمام سرکاری خدمات کو مرحلہ وار پیپر لیس بنا رہی ہے۔ عمران خان کے وژن کے مطابق ڈیجیٹل سہولیات ہر شہری تک پہنچائیں گے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا انٹرنیٹ نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔ نوجوانوں کو روزگار اور معاشی مواقع فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ آج پاکستان میں نوجوان ای کامرس کی طرف جا رہے ہیں اور یہ خوش آئند رجحان ہے۔ سوشل میڈیا کو محدود کرنے کے لیے انٹرنیٹ سست کرنا قابل مذمت ہے۔ بدقسمتی سے صرف پی ٹی آئی کو کاؤنٹر کرنے کے لیے انٹرنیٹ بند یا سست کر دیا جاتا ہے، جس سے نوجوانوں کا نقصان ہوتا ہے۔ مسلط حکومت خود تو نوجوانوں کے لیے کچھ نہیں کر رہی، کم از کم انہیں اپنے طور پر کچھ کرنے دے۔ ضم اضلاع میں انٹرنیٹ تو دور، موبائل سروس تک میسر نہیں۔ ایک ہی حل تھا کہ قبائلی عوام افغانستان کے ساتھ جارت کریں، وہ بھی بارڈر بند کر دیے گئے۔ ایسے اقدامات دہشت گردی کے خاتمے کے بجائے اسے ہوا دے رہے ہیں۔ ایک طرف عوام کے پاس کاروبار نہیں، کھانے کے پیسے نہیں، دوسری طرف جہاز اور جزیرے خریدے جا رہے ہیں۔ جب کسی کو معلوم ہو کہ عوام ووٹ دے یا نہ دے، چور دروازے سے حکومت بنا لیں گے تو وہ بدمعاشی پر اتر آتا ہے۔ ہماری حکومت عوام کے ووٹ سے قائم ہوئی ہے، عوامی خدمت ہماری اولین ترجیح ہے۔مالی سال 2026-27 خیبرپختونخوا میں امن، ترقی اور خوشحالی کا سال ثابت ہوگا۔


