عقیل یوسفزئی
کیا یہ محض ایک اتفاق ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور پی ٹی آئی کے بانی کی بہن نورین نیازی نے بیک وقت پاکستانی فوج اور ریاست کے خلاف غیر ضروری طور پر ایسی باتیں کیں جس کے نتیجے میں نہ صرف فاصلوں اور کشیدگی میں اضافہ ہوا اور ریاست کے حامیوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا بلکہ بھارت سمیت پاکستان مخالف قوتوں نے ان بیانات کو پوری شدت کے ساتھ” ڈٹ ” کر پاکستان کے خلاف استعمال کیا اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اگر ایک جانب مولانا فضل الرحمان نے شہداء کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ بیان داغ ڈالا تو دوسرے مرحلے کے دوران انہوں نے بین السطور میں پاکستان پر بدامنی کی ذمہ داری ڈالتے ہوئے افغان حکومت اور طالبان کی حمایت کا راستہ اختیار کیا اور اعلان کیا کہ ان کے خلاف جو پروپیگنڈا کیا گیا ہے اور ان کی بات کی جو غلط تشریح کی گئی ہے اس کے خلاف وہ پورے ملک کے تمام صوبوں کا دورہ کرکے عوام کو حقائق سے آگاہ کریں گے ۔ اس کا مطلب یہ لیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے باقاعدہ طبل جنگ بجادیا ہے اور وکلاء کی ایک مجوزہ تحریک کی تیاری بھی جاری ہے ۔
اس ضمن میں اس تلخ حقیقت کو ماننے میں کوئی برائی نہیں ہے کہ بعض عناصر اور افراد نے مولانا کی سیاسی مخالفت میں ان کی ذات سے متعلق غیر اخلاقی باتیں کیں جس کی وجہ سے نہ صرف مولانا مزید مشتعل ہوگئے بلکہ ان ” عناصر” کے بیانات کو ریاستی اداروں کے ” کھاتے ” میں ڈال دیا گیا اور یوں معاملات مزید خراب ہوگئے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا دیگر لیڈروں کی طرح ایک دنیا پرست اور اقتدار پسند رہنما ہیں اس لیے ان کی ذاتی زندگی کو تنقید کی بجائے ان کی سیاسی زندگی پر سوالات اٹھائے جائیں تو یہ ایک مناسب راستہ ثابت ہوگا تاہم بعض ” عناصر ” ریاست کا نام استعمال کرتے ہوئے اپنی پوائنٹ اسکورنگ کرتے ہیں یہاں بھی ایسی صورتحال دیکھنے کو ملی تاہم اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ مولانا اور نورین نیازی نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے بیانیے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور پاکستان دشمن قوتوں کو بہت سارا ” مواد ” فراہم کیا ۔
اس تناظر میں بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ سنجیدہ حلقوں کو اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ اس کشیدگی کی ” ٹائمنگ” کتنی اہم ہے اور کہیں ایسا تو نہیں کہ بدلتے حالات اور پاکستان مخالف سرگرمیوں کی آڑ میں ہمارے بعض لیڈر کسی گیم کا حصہ تو نہیں بن رہے ؟


