ایوب میڈیکل کالج ایبٹ آباد میں انٹرنیشنل میڈیکل ریسرچ کانفرنس (IMRC’26) کے افتتاحی سیشن کے موقع پر “From Principles to Practice Implementing Medical Ethics in Resource-Limited Settings” کے عنوان سے خصوصی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ جمعہ 28 اگست 2026 کو ایوب میڈیکل کالج کے کانفرنس روم میں منعقد ہوئی جس میں چیئرمین بورڈ آف گورنرز ایوب میڈیکل انسٹی ٹیوشن پروفیسر ڈاکٹر عابد جمیل نے بطور چیف گیسٹ اور فیسلیٹیٹر شرکت کی۔
ورکشاپ کا بنیادی مقصد محدود وسائل والے طبی مراکز میں طبی اخلاقیات کے اصولوں کو عملی طور پر نافذ کرنے مریضوں کے حقوق کے تحفظ، شفافیت، پیشہ ورانہ ذمہ داری اور ایک مضبوط اخلاقی تنظیمی ماحول کے فروغ کے حوالے سے شرکاء کی استعداد کار میں اضافہ کرنا تھا۔
اپنی خصوصی پریزنٹیشن میں پروفیسر ڈاکٹر عابد جمیل نے اخلاقیات (Ethics) اخلاقی اقدار اور قانونی فریم ورک کے درمیان فرق اور باہمی تعلق پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے طبی اخلاقیات کے بنیادی اصولوں اور صحت کے شعبے میں ان کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر اور مریض کے درمیان تعلق میں ڈاکٹر پر ایک بڑی اخلاقی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ طبی شعبے سے وابستہ افراد معاشرے میں نسانی جان اور صحت کے محافظ کا کردار ادا کرتے ہیں اس لیے ان کے لیے اعلیٰ اخلاقی معیار، دیانت داری، ہمدردی اور مریض کے وقار کا احترام ناگزیر ہے۔ ورکشاپ کے دوران قانون اور اخلاقیات کے فرق کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ قانون ریاست یا حکومت کی جانب سے معاشرے میں نظم و ضبط اور عوامی تحفظ کے لیے وضع کیا جاتا ہے اور اس پر عمل درآمد قانونی طور پر لازم ہوتا ہے جبکہ اخلاقیات انسانی اقدار، معاشرتی رویوں اور باہمی تعلقات کے لیے رہنما اصول فراہم کرتی ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر عابد جمیل نے Professionalism کے حوالے سے بھی شرکاء کو آگاہ کیا اور کہا کہ ایک بہترین طبی ماہر کے لیے صرف علمی قابلیت اور تکنیکی مہارت کافی نہیں بلکہ مؤثر ابلاغ درست طبی فیصلہ سازی، جذباتی توازن اقدار، خود احتسابی اور مریض و معاشرے کی فلاح کے لیے مسلسل کوشش بھی پیشہ ورانہ ذمہ داری کا حصہ ہیں۔ ورکشاپ میں طبی اخلاقیات کے اہم رہنما اصولوں پر خصوصی توجہ دی گئی جن میں انسانی وقار کا احترام، آزادانہ اور باخبر رضامندی، کمزور اور حساس افراد کا تحفظ، مریض کی رازداری اور پرائیویسی، انصاف اور مساوات، نقصان کو کم سے کم کرنا، زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانا، سچائی اور دیانت داری شامل ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر عابد جمیل نے اس بات پر زور دیا کہ ہسپتالوں اور طبی اداروں میں ایسا اخلاقی تنظیمی کلچر تشکیل دینا وقت کی اہم ضرورت ہے جہاں مریضوں کے حقوق، عزتِ نفس اور تحفظ کو اولین ترجیح حاصل ہو اور ہر سطح پر شفافیت، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ اصولوں کی پاسداری یقینی بنائی جائے۔ ورکشاپ میں طبی ماہرین، فیکلٹی ممبران، طلبہ و طلبات اور دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔ شرکاء نے ورکشاپ کو طبی اخلاقیات کو عملی میدان میں مؤثر انداز میں نافذ کرنے کے حوالے سے ایک اہم اور مفید کاوش قرار دیا۔ یہ خصوصی سیشن انٹرنیشنل میڈیکل ریسرچ کانفرنس IMRC’26 کے علمی و تحقیقی سلسلے کا اہم حصہ تھا جس کا مقصد طبی تحقیق، تعلیم، اخلاقیات اور جدید طبی طریقہ کار کے حوالے سے ماہرین اور شرکاء کو ایک مشترکہ علمی پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔


