Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Wednesday, September 30, 2026

نئے این ایف سی ایوارڈ کے اجرا میں تاخیر پر پشاور ہائیکورٹ کا نوٹس، اٹارنی جنرل طلب

پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے 16 سال سے نئے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے اجرا نہ ہونے سے متعلق درخواست پر اٹارنی جنرل آف پاکستان کو طلب کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے وضاحت طلب کر لی ہے۔

سابق صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن پر سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس کامران حیات میانخیل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سابق فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد صوبے کی آبادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث صوبے کے قومی مالیاتی کمیشن میں حصے پر نظرثانی ناگزیر ہے۔ درخواست گزار کے مطابق قانون کے تحت ہر پانچ سال بعد نئے این ایف سی ایوارڈ کا اجرا ہونا چاہیے۔

دورانِ سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ جب وفاق میں درخواست گزار کی جماعت کی حکومت تھی تو اس وقت خیبرپختونخوا کو نیا حصہ کیوں نہیں دیا گیا؟ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاق میں کسی بھی جماعت کی حکومت ہو، فاٹا کے انضمام کے بعد صوبے کو اس کا جائز مالیاتی حصہ نہیں دیا گیا۔

ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل اتمانخیل نے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت نے عدالت میں ایک رپورٹ جمع کرائی ہے، جس کے مطابق قبائلی اضلاع کے لیے 27 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کا بنیادی مقصد وہاں فنڈز کی یکساں تقسیم اور ترقیاتی عمل کو یقینی بنانا تھا۔

ایڈووکیٹ جنرل نے مزید بتایا کہ این ایف سی ایوارڈ کے علاوہ قبائلی اضلاع کے لیے 2023 سے 115 ارب روپے کے الگ فنڈز بھی واجب الادا ہیں، جبکہ اب یہ رقم مزید بڑھ چکی ہے۔

اسسٹنٹ اٹارنی جنرل بلال احمد درانی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ صرف وفاقی حکومت کا معاملہ نہیں بلکہ اس میں تمام صوبوں کے وزرائے خزانہ بھی شامل ہوتے ہیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ آخری قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ 2010 میں جاری کیا گیا تھا۔ عدالت نے معاملے کی مزید وضاحت کے لیے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 11 نومبر تک ملتوی کر دی۔

نئے این ایف سی ایوارڈ کے اجرا میں تاخیر پر پشاور ہائیکورٹ کا نوٹس، اٹارنی جنرل طلب

Shopping Basket