ایبٹ آباد: ہزارہ اباسین آرٹس کونسل میں طویل عرصے بعد منعقد ہونے والی ایک منفرد آرٹ نمائش نے شہریوں اور فنکار برادری کی بھرپور توجہ حاصل کر لی۔ نمائش میں ہزارہ ڈویژن کے معروف اور ابھرتے ہوئے مصوروں، خطاطوں اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ ماہرین کے فن پارے ایک ہی چھت تلے پیش کیے گئے، جسے خطے میں فن و ثقافت کے فروغ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایبٹ آباد اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (AAPA) کے زیر اہتمام جلال بابا آڈیٹوریم، ہزارہ اباسین آرٹس کونسل میں آرٹ لائن اکیڈمی کے طلبہ و طالبات کی تقسیمِ اسناد کی تقریب اور آرٹ نمائش کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی معروف مصور ناصر شہزاد تھے۔
نمائش میں ہزارہ بھر سے تعلق رکھنے والے سینئر اور نوجوان فنکاروں کے شاہکار پیش کیے گئے، جبکہ شہریوں نے اس اقدام کو شہر کی ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے خوش آئند قرار دیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ ایسے پروگرام نوجوان نسل کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ایبٹ آباد کے مثبت اور مہذب تشخص کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔
خاتون خطاط امامہ رضوان نے کہا کہ ماضی میں اپنے فن پاروں کی نمائش کے لیے انہیں اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت دیگر شہروں کا رخ کرنا پڑتا تھا، تاہم اپنے ہی شہر میں ایک معیاری اور منظم نمائش میں شرکت ان کے لیے خوشگوار تجربہ ثابت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان فنکاروں کے کام کو قریب سے دیکھ کر اندازہ ہوا کہ نئی نسل غیرمعمولی تخلیقی صلاحیتوں کی حامل ہے اور اسے صرف مناسب رہنمائی اور مواقع درکار ہیں۔
مہمانِ خصوصی ناصر شہزاد نے طلبہ و طالبات کے فن پاروں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہزارہ میں فنونِ لطیفہ سے وابستگی رکھنے والوں کی کمی نہیں، البتہ ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو ان صلاحیتوں کو نکھار سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایبٹ آباد اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس نوجوان فنکاروں کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے۔
اس موقع پر ہزارہ اباسین آرٹس کونسل کے نائب صدر اور سینئر آرٹسٹ قاضی زبیر نے نمائش کو شہر کی مثبت شناخت اجاگر کرنے کی اہم کاوش قرار دیتے ہوئے کہا کہ معروف اور نوآموز فنکاروں کے فن پاروں کو ایک ہی مقام پر پیش کرنا قابلِ تحسین اقدام ہے۔ انہوں نے فن و ثقافت کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
سینئر مصور پرویز خان نے کہا کہ اگرچہ وہ کئی دہائیوں سے ملک بھر میں اپنے فن کی نمائش کرتے آ رہے ہیں، تاہم اپنے ہی خطے کے لوگوں کے سامنے فن پارے پیش کرنا ان کی دیرینہ خواہش تھی، جو اس نمائش کے ذریعے پوری ہوئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایبٹ آباد اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر صفدر حسین نے کہا کہ ادارے کے قیام کا مقصد فنونِ لطیفہ سے وابستہ افراد کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں وہ ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ حاصل کر سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلی آرٹ نمائش میں ایک درجن سے زائد فنکاروں کے فن پارے پیش کیے گئے اور شہریوں کی بھرپور شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشرے میں فن و ثقافت کے فروغ کی شدید ضرورت موجود ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اکیڈمی جلد ہی پرفارمنگ اور کریئیٹو آرٹس کے باقاعدہ پروگرامز کا آغاز کرے گی، جن کے ذریعے نوجوانوں کو تربیت، رہنمائی اور قومی و علاقائی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
نمائش کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ پہلی مرتبہ ہزارہ ڈویژن کے معروف اور نوآموز مصوروں اور خطاطوں کے فن پارے ایک ساتھ پیش کیے گئے، جس سے مختلف نسلوں اور تجربات کے حامل فنکاروں کو باہمی سیکھنے اور تجربات کے تبادلے کا موقع ملا۔


