پشاور: ڈائریکٹریٹ آف سپورٹس خیبر پختونخوا کے زیرِ اہتمام نیشنل جونیئر چیمپئن شپ کا پشاور سپورٹس کمپلیکس میں شاندار اور رنگا رنگ افتتاحی تقریب کے ساتھ آغاز ہوگیا۔ چیمپئن شپ میں ملک بھر سے ایک ہزار سے زائد نوجوان کھلاڑی بیڈمنٹن، سکواش، ایتھلیٹکس، والی بال، ٹیبل ٹینس اور کراٹے کے مقابلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
افتتاحی تقریب کے مہمانانِ خصوصی صوبائی وزیر اطلاعات شفیع اللہ جان اور مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد ترند تھے۔ تقریب میں معاونِ خصوصی ہمایون خان، رکن صوبائی اسمبلی میاں شرافت، سیکرٹری سپورٹس آصف خان، ڈائریکٹر جنرل سپورٹس تاشفین حیدر سمیت دیگر شخصیات نے بھی شرکت کی۔
تقریب کے دوران چاروں صوبوں، اسلام آباد اور مختلف سرکاری و نجی اداروں کے دستوں نے شاندار مارچ پاسٹ پیش کیا، جبکہ آتش بازی کے دلکش مظاہرے نے شرکاء کا بھرپور دھیان اپنی جانب مبذول کرایا۔
اپنے خطاب میں شفیع اللہ جان نے ملک بھر سے آنے والے کھلاڑیوں اور آفیشلز کو خوش آمدید کہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ چیمپئن شپ میں اعلیٰ معیار کے مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کھیل نوجوانوں میں سپورٹس مین شپ، نظم و ضبط اور برداشت جیسے اوصاف پیدا کرتے ہیں اور ہار جیت کھیل کا حصہ ہے، جبکہ اصل کامیابی اپنی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت مرد و خواتین کھلاڑیوں کو مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور صوبے میں کھیلوں کے فروغ کے لیے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔ بعد ازاں انہوں نے نیشنل جونیئر چیمپئن شپ کے باضابطہ آغاز کا اعلان کیا۔
مشیر کھیل تاج محمد ترند نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس نوعیت کے قومی ایونٹس مختلف علاقوں کے نوجوانوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتے اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مستقبل میں بھی ایسے مقابلوں کے انعقاد کا سلسلہ جاری رکھے گی تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مزید مواقع میسر آ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وژن کے مطابق کھیلوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں صوبے بھر میں کھیلوں کی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں۔
تاج محمد ترند نے بتایا کہ حالیہ عرصے میں انڈر 21 خیبر پختونخوا گیمز کا کامیاب انعقاد کیا گیا، جس میں آٹھ ہزار سے زائد کھلاڑیوں نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ یتیم اور بے سہارا بچوں، خصوصی افراد، اقلیتوں، خواجہ سرا افراد، مدارس کے طلبہ اور رمضان المبارک کے دوران مختلف کھیلوں کے مقابلے بھی منعقد کیے گئے، جبکہ چترال میں آئس ہاکی ایونٹ کا بھی کامیاب انعقاد ہوا۔
انہوں نے کھلاڑیوں اور آفیشلز کو یقین دلایا کہ وہ صوبے کے معزز مہمان ہیں اور کسی بھی قسم کی دشواری کی صورت میں متعلقہ حکام ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔ انہوں نے کھلاڑیوں پر زور دیا کہ وہ مقابلوں میں بھرپور جذبے، محنت اور کھیل کے بہترین اصولوں کے مطابق حصہ لے کر ایونٹ کو یادگار بنائیں۔


