Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Tuesday, June 2, 2026

پختونخوا اسمبلی میں لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے کی قرارداد پیش

پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی میں لڑکیوں کی کم از کم عمرِ شادی 18 سال مقرر کرنے سے متعلق قرارداد پیش کر دی گئی، جسے کم عمری اور جبری شادیوں کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
صوبائی اتحاد برائے انسداد کم عمری، ابتدائی اور جبری شادیوں نے قرارداد کا خیرمقدم کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ طویل عرصے سے زیر التوا چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل کو فوری طور پر صوبائی کابینہ اور اسمبلی میں پیش کیا جائے تاکہ بچیوں کے تعلیم، صحت اور تحفظ کے حقوق کو یقینی بنایا جا سکے۔
قرارداد میں پاکستان کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs)، بچوں کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن (CRC) اور خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کے کنونشن (CEDAW) کے تحت کیے گئے بین الاقوامی وعدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کم عمری، ابتدائی اور جبری شادیوں کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
اتحاد کے مطابق مجوزہ قانون کا قانونی جائزہ پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے، تاہم سیاسی سطح پر پیش رفت نہ ہونے کے باعث بل اب تک منظوری کے لیے صوبائی کابینہ میں پیش نہیں کیا جا سکا۔ اتحاد نے نشاندہی کی کہ سندھ، پنجاب، بلوچستان اور اسلام آباد میں شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے کے لیے قانونی اصلاحات نافذ کی جا چکی ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا اس حوالے سے ابھی تک قانون سازی نہیں کر سکا۔
اس موقع پر ملالہ فنڈ ایجوکیشن چیمپیئن اور صوبائی اتحاد کے نمائندے قمر نسیم نے قرارداد پیش کرنے پر آمنہ سردار کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مجوزہ بل تمام قانونی مراحل مکمل کر چکا ہے، لہٰذا اسے مزید تاخیر کے بغیر کابینہ اور اسمبلی میں پیش کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی تنظیموں کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل نے کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے قانون سازی کی مخالفت نہیں کی بلکہ اسے ایک نقصان دہ سماجی مسئلہ قرار دیا ہے۔ کونسل نے نکاح کے اندراج کے وقت قومی شناختی کارڈ کی شرط سمیت متعدد انتظامی اقدامات کی بھی سفارش کی ہے۔
بچوں کے حقوق کے کارکن ظہور احمد نے بھی قرارداد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے بچیوں کی تعلیم، صحت، وقار اور محفوظ مستقبل کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔
اتحاد نے اپنے بیان میں وفاقی شرعی عدالت کے ان مشاہدات کا بھی حوالہ دیا جن کے مطابق شادی کی کم از کم عمر کے تعین سے متعلق قانون سازی اسلامی اصولوں کے منافی نہیں۔ مزید برآں، قاہرہ اور خرطوم اعلامیوں سمیت مختلف بین الاقوامی اور اسلامی معاہدات میں بھی کم عمری کی شادیوں اور خواتین کے خلاف نقصان دہ روایتی طرز عمل کے خاتمے پر زور دیا گیا ہے۔
صوبائی اتحاد برائے انسداد کم عمری، ابتدائی اور جبری شادیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل کو فوری طور پر منظوری کے لیے پیش کیا جائے تاکہ صوبے کی بچیوں کے بنیادی حقوق، تعلیم، صحت اور محفوظ مستقبل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

پختونخوا اسمبلی میں لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے کی قرارداد پیش

Shopping Basket