پشاور: ارشد ایوب خان کی زیر صدارت سکولوں سے باہر بچوں (OOSC) کی نشاندہی، ڈیٹا میپنگ اور بین الادارہ رابطہ کاری کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اجلاس میں سیکرٹری محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد خالد، ایجوکیشن سیکٹر ریفارمز یونٹ کے حکام، ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر، چیف پلاننگ آفیسر، ایڈیشنل سیکرٹری (ریفارمز اینڈ امپلیمنٹیشن)، یونیسف کے نمائندگان، اور محکمہ بلدیات، محکمہ سماجی بہبود، محکمہ صحت سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے افسران شریک ہوئے۔
اجلاس میں صوبے بھر میں سکولوں سے باہر بچوں کی درست نشاندہی، جغرافیائی میپنگ، سماجی و معاشی عوامل اور بچوں کے سکول نہ جانے کی وجوہات جاننے کے لیے جامع حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء کو مربوط ڈیٹا سسٹم، سروے میکانزم اور مختلف اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کے نظام پر بریفنگ بھی دی گئی۔
صوبائی وزیر ارشد ایوب خان نے کہا کہ سکول سے باہر بچوں کی درست نشاندہی حکومت کی اولین ترجیح ہے تاکہ ہر بچے کو تعلیم کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے مشترکہ حکمت عملی کے تحت مربوط انداز میں کام کریں۔
اس موقع پر سیکرٹری تعلیم محمد خالد نے کہا کہ محکمہ تعلیم جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل میپنگ اور بین الادارہ تعاون کے ذریعے مستند ڈیٹا مرتب کرے گا، جس کی بنیاد پر مؤثر پالیسی سازی اور منصوبہ بندی ممکن ہوگی۔
اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ محکمہ بلدیات، محکمہ سماجی بہبود، محکمہ صحت اور محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم باہمی اشتراک سے ایک جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد کریں گے، جس کے تحت سکول سے باہر بچوں کی نشاندہی، ڈیٹا کی تصدیق، زمینی حقائق کا جائزہ اور درپیش مسائل کے حل کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔


