Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, May 24, 2024

عسکری قیادت کا موقف اور یکطرفہ پروپیگنڈا

عسکری قیادت کا موقف اور یکطرفہ پروپیگنڈا

عقیل یوسفزئی

پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی پارٹی نے عدم اعتماد کے ایک آئینی اقدام کے نتیجے میں حکومت سے محرومی کے بعد اپنے سیاسی مخالفین کے علاوہ پاک فوج اور اس کی اعلیٰ قیادت کے خلاف جو رویہ اور لہجہ اختیار کیا اور جس منفی انداز میں مختلف قسم کے القابات استعمال کیے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی. انہوں نے قوم کو مبہم بیانیہ دیکر عوام کے علاوہ فوج کو تقسیم کرنے کی کوشش بھی کی اور پاکستان کو اندرونی اور بیرونی سطح پر مذاق بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

اسی تسلسل میں انہوں نے گزشتہ روز حقیقی آزادی کے بینر تلے ملک میں ایک اور لانگ مارچ کا اعلان کیا جس کی بنیاد انہوں نے ایک سینئر اینکر پرسن ارشد شریف کی کینیا میں ہونیوالی حادثاتی موت کو بنایا جس کو عمران خان نے اس واقعے سے پہلے نہ صرف اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا بلکہ ان کو ایک مبینہ لایف تھریٹ کی آڑ میں پشاور ایرپورٹ کے ذریعے دبئی بھیجنے پر آمادہ اور مجبور بھی کیا. ان کی موت کو جس بے رحمی اور سنگدلی کے ساتھ عسکری اداروں کے خلاف استعمال کیا گیا اس کی مثال بھی اس سے قبل ہمیں نہیں ملتی.
ارشد شریف کے جنازے کے روز ہی آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم اورڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے راولپنڈی میں ایک مشترکہ پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کے نام ونہاد الزامات، مہم، طریقہ واردات اور بیانئے کو واقعات، حقائق اور دلائل کی بنیاد پر رد کرکے دوٹوک الفاظ میں پیغام دیا کہ عسکری قیادت اپنے آئینی کردار کے اندر پاکستان کے دفاع اور استحکام کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور یہ کہ عمران خان کا بیانیہ جھوٹ اور غلط بیانی پر مبنی ہے.
دلائل کی بنیاد پر دونوں اعلیٰ حکام نے موقف اختیار کیا کہ عمران خان کے الزامات اور چلائی گئی مہم کا واحد مقصد فوج کو عدم اعتماد کے دوران اپنی حکومت بچانے پر آمادہ کرنا تھا اور یہ کہ اس مقصد کے لیے نہ صرف موصوف نے خفیہ ملاقاتیں کیں بلکہ موجودہ آ رمی چیف کو ملازمت میں توسیع دینے کی پرکشش آفر بھی کی. تاہم جب اس معاملے میں آئینی کردار کو سامنے رکھ کر معذرت کی گئی تو عمران خان نے ادارے کے خلاف مہم شروع کی اور پاکستان کو سیاسی عدم استحکام سے دوچار کرنے کی پالیسی اختیار کی جس کی مزاحمت کی گئی.
اس مشترکہ پریس بریفنگ کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ عمران خان سمیت ہر کسی کو پرامن احتجاج کا جمہوری حق حاصل ہے تاہم فساد یا انتشار پھیلانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی.
تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ اس بریفنگ کے بعد عمران خان اور ان کے حامیوں کے بیانیہ سے ہوا نکل گئی ہے اور یہ بات بھی واضح ہوگئی ہے کہ پاکستانی معاشرے کو تقسیم کرنے کی ہر کوشش کی مزاحمت کی جائے گی.
عمران خان کو چاہیے کہ وہ ذاتیات پر مبنی رویہ چھوڑ کر اگلے الیکشن کا انتظار کریں اور ملک میں انتشار پھیلانے اور بے چینی بڑھانے کی روایتی حربوں اور قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش سے باز آجائیں کیونکہ وہ نہ تو اس ملک کے لئے کوئی ناگزیر شخص ہیں اور نہ ہی ان کے ان “حربوں” کو مزید برداشت کرنے کی کوئی گنجائش باقی رہ گئی ہے. دوسری طرف حکمران اتحاد کو بھی عمران فوبیا سے نکل کر ملک کے انتظامی اور معاشی حالات بہتر بنانے پر غیر معمولی توجہ دینی چاہیے کیونکہ اب ان کے پاس ڈیلیور نہ کرنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا ہے.

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket