Local News

پشاور میں امریکی قونصلیٹ جنرل کی مرحلہ وار بندش کا اعلان

پشاور: امریکی محکمہ خارجہ نے پشاور میں امریکی قونصلیٹ جنرل کی مرحلہ وار بندش کا اعلان کر دیا ہے۔ فیصلے کے تحت خیبر پختونخوا سے متعلق سفارتی امور اب اسلام آباد میں قائم امریکی سفارتخانے کو منتقل کیے جائیں گے۔

ترجمان کے جاری کردہ میڈیا نوٹ کے مطابق یہ اقدام سفارتی عملے کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے اور وسائل کے مؤثر استعمال کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پشاور میں موجودگی میں تبدیلی کے باوجود پاکستان کے حوالے سے امریکی پالیسی ترجیحات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ خیبر پختونخوا کے عوام اور حکام کے ساتھ اپنے روابط برقرار رکھے گا، جن کا مقصد معاشی تعاون کو فروغ دینا، علاقائی سلامتی کو مستحکم کرنا اور امریکی مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

ترجمان کے مطابق امریکی سفارتخانہ اسلام آباد اور ملک کے دیگر شہروں کراچی اور لاہور میں قائم سفارتی دفاتر کے ذریعے امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔

A major crackdown

غیر قانونی سونے کی کان کنی کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن

نوشہرہ: ضلعی انتظامیہ نے غیر قانونی سونے کی مائننگ کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن شروع کرتے ہوئے نظام پور اور گردونواح میں وسیع پیمانے پر کارروائیاں کی ہیں، جن کے دوران سینکڑوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

انتظامیہ کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 497 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ 500 سے زائد افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ کارروائیوں کے دوران 11 کروڑ 98 لاکھ روپے سے زائد جرمانے بھی وصول کیے گئے۔

حکام کے مطابق کریک ڈاؤن کے دوران 334 سے زائد ہیوی مشینری اور ایک لاکھ 34 ہزار لیٹر سے زائد ڈیزل قبضے میں لے لیا گیا ہے، جو غیر قانونی مائننگ میں استعمال ہو رہا تھا۔

انتظامیہ نے بتایا کہ نظام پور کے علاقوں جبئی، ماندوری، مامازئی اور توحہ میں آپریشنز مزید تیز کر دیے گئے ہیں، جبکہ مختلف مقامات پر مشترکہ چیک پوسٹیں بھی قائم کر دی گئی ہیں تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

ڈپٹی کمشنر امان اللہ عباسی نے واضح کیا کہ غیر قانونی مائننگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور اس میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق نظام پور میں مائننگ کے شعبے کو باقاعدہ بنانے کے لیے اسے جلد لیز پر دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جس سے مقامی معیشت کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ غیر قانونی مائننگ کے مکمل خاتمے تک کریک ڈاؤن جاری رکھا جائے گا۔

Local News

ریسکیو 1122 مردان کا تعلیمی ادارے میں آگاہی و تربیتی سیشن

مردان: ریسکیو 1122 مردان کی جانب سے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر رفیع اللہ مروت کی ہدایت پر ٹریننگ ونگ نے نیو النور ایجوکیشن اکیڈمی تخت بھائی میں طلبہ و طالبات کے لیے ایک روزہ آگاہی و تربیتی سیشن کا انعقاد کیا۔

تقریب کے دوران ادارے کے ایم ڈی خلیل الرحمن، پرنسپل شاہد مہمند اور سینئر صحافی و بانی تخت بھائی پریس کلب حاجی حیات اللہ اختر نے خطاب کرتے ہوئے انسانی خدمت کے جذبے اور بروقت طبی امداد کی فراہمی میں ریسکیو 1122 کے کردار کو سراہا اور ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

ریسکیو ٹیم نے سیشن کے دوران فرسٹ ایڈ، قدرتی و ناگہانی آفات اور مختلف ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے حوالے سے عملی تربیت فراہم کی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ ایمرجنسی کی صورت میں ریسکیو سروسز سے کیسے رابطہ کیا جائے، جبکہ سانس اور دل کی دھڑکن کی بحالی (CPR)، ڈوبنے، بجلی کا کرنٹ لگنے، زہریلی اشیاء کے استعمال، کتے یا سانپ کے کاٹنے اور دیگر حادثات کی صورت میں فوری امداد کے طریقے بھی سکھائے گئے۔

مزید برآں سیلاب، زلزلہ اور دیگر قدرتی آفات کے دوران حفاظتی تدابیر پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ سیشن کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن ہوا جس میں طلبہ نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور آگاہی پیغام گھر گھر پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا۔

اس موقع پر قاری طفیل، نذر محمد، اویس خان اور احسن احسان بھی موجود تھے۔

Local news

سابق بلدیاتی نمائندوں کا سیکرٹریز کے خلاف احتجاج کا اعلان

پشاور (سٹاف رپورٹر): سٹی میٹروپولیٹن کونسل کے سابق اراکین اور مختلف نیبرہڈ کونسلز کے سابق چیئرمینوں نے سرکاری دستاویزات کی مد میں مبینہ اضافی فیس وصولیوں کے خلاف احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔

سابق نمائندوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بلدیاتی نظام کی مدت ختم ہونے کے بعد نیبرہڈ کونسل سیکرٹریز کی جانب سے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ، فارم بی، نکاح نامہ، ڈومیسائل اور دیگر دستاویزات کے اجرا و تصدیق کے لیے مقررہ سرکاری فیس سے زائد رقم وصول کی جا رہی ہے، جو ناقابل قبول ہے۔

یہ فیصلہ سابق چیئرمین شیخ آباد فضل وہاب صافی کی رہائشگاہ پر منعقدہ مشترکہ اجلاس میں کیا گیا، جس میں فقیر آباد، کریم پورہ، گنج، گلبہار، یکہ توت اور دیگر علاقوں کے سابق چیئرمینوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ اب دستاویزات کی تصدیق سابق چیئرمینوں کے بجائے گریڈ 17 کے افسران سے کروانے کی شرط عائد کر دی گئی ہے، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

اجلاس کے شرکاء نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ سٹی پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ سیکرٹریز کی پشت پناہی کر رہے ہیں، جس کے باعث چیک اینڈ بیلنس کا نظام متاثر ہوا ہے اور مبینہ طور پر من مانیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سابق نمائندوں کا کہنا تھا کہ نیبرہڈ کونسل سطح پر نگرانی کے مؤثر نظام کے فقدان کے باعث شہریوں سے زائد فیس وصول کی جا رہی ہے، جو فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا نوٹس لے کر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو وہ احتجاج سمیت دیگر آپشنز استعمال کرنے پر مجبور ہوں گے۔

Local News

ایف آئی اے کی بڑی کارروائی: 25 کروڑ سے زائد برآمد، دو ملزمان گرفتار

پشاور: فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) خیبرپختونخوا نے حوالہ/ہنڈی کے خلاف اپنی تاریخ کی بڑی کارروائی کرتے ہوئے 25 کروڑ سے زائد رقم برآمد کر لی ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق کمرشل بینکنگ سرکل (سی بی سی) پشاور نے ضلع ملاکنڈ کے قریب چکدرہ ٹول پلازہ پر خفیہ اطلاع کی بنیاد پر چھاپہ مار کارروائی کی۔ کارروائی 5 مئی 2026 کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد نصیر کی نگرانی میں انجام دی گئی۔
کارروائی کے دوران دو ملزمان، محمد عمران اور عثمان کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ ان کے قبضے سے 25 کروڑ 3 لاکھ 94 ہزار روپے (250,394,000 روپے) نقد برآمد کیے گئے۔ ایف آئی اے کے مطابق ملزمان کے قبضے سے حوالہ/ہنڈی کاروبار سے متعلق اہم شواہد بھی حاصل کیے گئے ہیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی اجازت کے بغیر غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ حکام نے بتایا کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں مالیاتی جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

Local News

معرکۂ حق سالگرہ: ہنگو کالج میں تقریب اور ریلی کا انعقاد

ضلع ہنگو میں ’معرکۂ حق‘ کے ایک سال مکمل ہونے پر گورنمنٹ ڈگری کالج ہنگو میں تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کے بعد کالج سے مین روڈ تک ایک ریلی بھی نکالی گئی۔
ریلی میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عبدالنصیر سمیت مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے شرکت کی۔ شرکاء نے قومی یکجہتی اور سیکیورٹی فورسز سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔
اس موقع پر اے ڈی سی عبدالنصیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معرکۂ حق میں دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے پر پاک فوج کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے جبکہ دشمن کے ناپاک عزائم ناکام ہو چکے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے ملکی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے دعا بھی کی۔

Local News

معرکۂ حق سالگرہ: پشاور میں میراتھن ریلی

پشاور: معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ اور جشنِ فتح 2026 کے موقع پر پشاور میں خصوصی میراتھن ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مردوں، خواتین اور نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

ریلی کا آغاز امن چوک سے ہوا اور یہ پولو گراؤنڈ پر اختتام پذیر ہوئی۔ شرکاء نے راستے بھر جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی یکجہتی اور حب الوطنی کا اظہار کیا، جبکہ شہریوں کی جانب سے میراتھن میں شریک افراد کا پرتپاک استقبال بھی کیا گیا۔

اختتامی مقام پر ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا جہاں نمایاں کارکردگی دکھانے والے شرکاء میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ میراتھن کے دوران “پاکستان زندہ باد” اور “پاک فوج زندہ باد” کے نعرے گونجتے رہے جس سے فضا حب الوطنی کے جذبات سے سرشار رہی۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ معرکۂ حق میں کامیابی قومی اتحاد اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظہر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کی سلامتی کے لیے پوری قوم متحد ہے اور ہر قسم کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

Editorial 6 May 26

کور کمانڈرز کانفرنس کا واضح پیغام اور شیخ ادریس کی شہادت کا سانحہ

عقیل یوسفزئی
جے یو آئی سے تعلق رکھنے والے ممتاز عالم دین اور سابق رکن اسمبلی شیخ محمد ادریس کو گزشتہ چارسدہ میں شہید کیا گیا جبکہ ان کے تین ساتھی فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہوئے ۔
صبح ساتھ اور 8 بجے کے درمیان 4 موٹر سائیکل سواروں نے ان کو چارسدہ کے ایک چوک میں اس وقت فائرنگ کا نشانہ بنایا جب ان کی گاڑی چوک کراس کرنے کے لیے کھڑی ہوئی ۔
شیخ محمد ادریس کو سر پر گولی لگی جس سے وہ شہید ہوئے ۔ ان کی شہادت نے نہ صرف یہ کہ پورے ملک بالخصوص خیبر پختونخوا کے عوامی ، سیاسی اور دینی حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ صوبائی حکومت کی ترجیحات اور سیکیورٹی معاملات پر ایک بار پھر سوالیہ نشانات لگائے گئے کیونکہ شیخ ادریس کو گزشتہ ہفتہ دس دنوں سے شدید سیکیورٹی تھریٹ اور بدترین سوشل میڈیا کمپین کا سامنا تھا مگر ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت نے اس کے باوجود اتنی اہم شخصیت کو درکار سیکیورٹی فراہم نہیں کی ۔
وہ نہ صرف یہ کہ جے یو آئی کے اہم رہنما اور ممتاز عالم دین تھے بلکہ وہ ایسے ہی حملے کے دوران برسوں پہلے نشانہ بننے والے مولانا حسن جان ( سابق ایم این اے) کے داماد بھی تھے ۔
شدت پسند گروپ داعش خراسان نے رسمی طور پر اس حملے کی ذمے داری قبول کرلی ہے جبکہ افغان حکومت اور کالعدم ٹی ٹی پی نے اس حملے کی مذمّت کی ہے ۔
داعش نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران متعدد اہم علماء کو نشانہ بنایا ہے ۔ یہ گروپ جہاں ایک طرف مختلف طبقہ فکر کے علماء ، اجتماعات کو نشانہ بناتا آرہا ہے وہاں یہ ایک پالیسی کے تحت جے یو آئی کے مختلف دھڑوں کی ٹاپ لیڈر شپ کو نشانہ بنانے پر عمل پیرا ہے ۔
گزشتہ 12 مہینوں کے دوران اس گروپ نے تقریباً 9 اہم علماء کو نشانہ بنایا ہے جن میں اگست 2025 کے دوران سابق ایم این اے مولانا حامد الحق کی شہادت بھی شامل ہے جن کو مشہور زمانہ دارالعلوم حقانیہ میں خود کش حملہ میں 6 دیگر کے ہمراہ شہید کیا گیا تاہم یہ بات بھی سامنے رکھی جائے کہ یہ کام کالعدم ٹی ٹی پی اس وقت سے کرتی آرہی ہے جب اس خطے میں داعش کا وجود بھی نہیں تھا ۔
پولیس حکام کے مطابق 4 میں سے 2 حملہ آوروں کی شناخت ہوئی ہے جن میں ایک افغان باشندہ بھی شامل ہے ۔
اس واقعے کی اگر ایک جانب شدید مذمت کی جارہی ہے تو دوسری جانب خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کو بھی اس کی پرو طالبان پالیسی کے باعث سخت تنقید کا سامنا ہے ۔
تجزیہ کار حماد حسن کے مطابق سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوسری پارٹیوں کے برعکس پی ٹی آئی کو ایسے حملوں کا نشانہ کیوں نہیں بنایا جاتا حالانکہ یہ پارٹی تین ادوار سے خیبرپختونخوا میں برسر اقتدار ہے ؟ ان کے بقول اس کی بنیادی وجہ شاید یہ ہے کہ پی ٹی آئی طالبان وغیرہ کی گڈ بک میں ہے اور اسی قربت کے باعث خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت دہشت گرد گروپوں کے خلاف کوئی واضح پوزیشن بھی نہیں لیتی ۔ اپنے تبصرے میں ان کا کہنا تھا کہ اگر چارسدہ جیسے مین سٹریم علاقے میں سیکیورٹی کی یہ صورتحال ہے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قبائلی اور جنوبی علاقوں میں امن و امان کی حالت کیا ہوگی مگر اس سے بھی تشویش ناک بات یہ ہے کہ صوبائی حکومت درکار اقدامات کی بجائے کرپشن میں مصروف عمل ہے ۔
اے این پی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کے مطابق پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا کو دہشت گردوں اور کرپٹ عناصر کی رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور صوبائی حکومت ، پی ٹی آئی کی سیاست ایک قیدی کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے ۔
سابق وزیر اعلیٰ آفتاب خان شیرپاؤ سمیت متعدد دیگر اہم قائدین نے بھی اس قسم کے حملوں اور دہشت گردی سے متعلق صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اس صورتحال سے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی اور یہ کہ صوبے کا کوئی طبقہ دہشت گردی سے محفوظ نہیں ہے ۔
جید علماء اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے علماء کو اس لئے وقفے وقفے سے نشانہ بنایا جاتا ہے کہ وہ پاکستان میں جاری دہشتگردی کو شریعت کے مطابق خلاف اسلام قرار قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کرتے ہوئے ہیں اور اس طرزِ عمل کے باعث دہشت گردی کے بیانیے پر ذد پڑتی ہے ۔
دوسری جانب گزشتہ روز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت کور کمانڈر کانفرنس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک کے داخلی اور خارجی معاملات کے علاوہ ایک بار پھر افغانستان اور بھارت کے کردار کا جائزہ لیا گیا اور دو ٹوک الفاظ میں واضح کردیا گیا کہ دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور یہ کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز اور ریاست تمام چیلنجز کا نہ صرف یہ کہ ادراک رکھتی ہیں بلکہ افواج پاکستان ان چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں ۔