عقیل یوسفزئی
جے یو آئی سے تعلق رکھنے والے ممتاز عالم دین اور سابق رکن اسمبلی شیخ محمد ادریس کو گزشتہ چارسدہ میں شہید کیا گیا جبکہ ان کے تین ساتھی فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہوئے ۔
صبح ساتھ اور 8 بجے کے درمیان 4 موٹر سائیکل سواروں نے ان کو چارسدہ کے ایک چوک میں اس وقت فائرنگ کا نشانہ بنایا جب ان کی گاڑی چوک کراس کرنے کے لیے کھڑی ہوئی ۔
شیخ محمد ادریس کو سر پر گولی لگی جس سے وہ شہید ہوئے ۔ ان کی شہادت نے نہ صرف یہ کہ پورے ملک بالخصوص خیبر پختونخوا کے عوامی ، سیاسی اور دینی حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ صوبائی حکومت کی ترجیحات اور سیکیورٹی معاملات پر ایک بار پھر سوالیہ نشانات لگائے گئے کیونکہ شیخ ادریس کو گزشتہ ہفتہ دس دنوں سے شدید سیکیورٹی تھریٹ اور بدترین سوشل میڈیا کمپین کا سامنا تھا مگر ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت نے اس کے باوجود اتنی اہم شخصیت کو درکار سیکیورٹی فراہم نہیں کی ۔
وہ نہ صرف یہ کہ جے یو آئی کے اہم رہنما اور ممتاز عالم دین تھے بلکہ وہ ایسے ہی حملے کے دوران برسوں پہلے نشانہ بننے والے مولانا حسن جان ( سابق ایم این اے) کے داماد بھی تھے ۔
شدت پسند گروپ داعش خراسان نے رسمی طور پر اس حملے کی ذمے داری قبول کرلی ہے جبکہ افغان حکومت اور کالعدم ٹی ٹی پی نے اس حملے کی مذمّت کی ہے ۔
داعش نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران متعدد اہم علماء کو نشانہ بنایا ہے ۔ یہ گروپ جہاں ایک طرف مختلف طبقہ فکر کے علماء ، اجتماعات کو نشانہ بناتا آرہا ہے وہاں یہ ایک پالیسی کے تحت جے یو آئی کے مختلف دھڑوں کی ٹاپ لیڈر شپ کو نشانہ بنانے پر عمل پیرا ہے ۔
گزشتہ 12 مہینوں کے دوران اس گروپ نے تقریباً 9 اہم علماء کو نشانہ بنایا ہے جن میں اگست 2025 کے دوران سابق ایم این اے مولانا حامد الحق کی شہادت بھی شامل ہے جن کو مشہور زمانہ دارالعلوم حقانیہ میں خود کش حملہ میں 6 دیگر کے ہمراہ شہید کیا گیا تاہم یہ بات بھی سامنے رکھی جائے کہ یہ کام کالعدم ٹی ٹی پی اس وقت سے کرتی آرہی ہے جب اس خطے میں داعش کا وجود بھی نہیں تھا ۔
پولیس حکام کے مطابق 4 میں سے 2 حملہ آوروں کی شناخت ہوئی ہے جن میں ایک افغان باشندہ بھی شامل ہے ۔
اس واقعے کی اگر ایک جانب شدید مذمت کی جارہی ہے تو دوسری جانب خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کو بھی اس کی پرو طالبان پالیسی کے باعث سخت تنقید کا سامنا ہے ۔
تجزیہ کار حماد حسن کے مطابق سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوسری پارٹیوں کے برعکس پی ٹی آئی کو ایسے حملوں کا نشانہ کیوں نہیں بنایا جاتا حالانکہ یہ پارٹی تین ادوار سے خیبرپختونخوا میں برسر اقتدار ہے ؟ ان کے بقول اس کی بنیادی وجہ شاید یہ ہے کہ پی ٹی آئی طالبان وغیرہ کی گڈ بک میں ہے اور اسی قربت کے باعث خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت دہشت گرد گروپوں کے خلاف کوئی واضح پوزیشن بھی نہیں لیتی ۔ اپنے تبصرے میں ان کا کہنا تھا کہ اگر چارسدہ جیسے مین سٹریم علاقے میں سیکیورٹی کی یہ صورتحال ہے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قبائلی اور جنوبی علاقوں میں امن و امان کی حالت کیا ہوگی مگر اس سے بھی تشویش ناک بات یہ ہے کہ صوبائی حکومت درکار اقدامات کی بجائے کرپشن میں مصروف عمل ہے ۔
اے این پی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کے مطابق پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا کو دہشت گردوں اور کرپٹ عناصر کی رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور صوبائی حکومت ، پی ٹی آئی کی سیاست ایک قیدی کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے ۔
سابق وزیر اعلیٰ آفتاب خان شیرپاؤ سمیت متعدد دیگر اہم قائدین نے بھی اس قسم کے حملوں اور دہشت گردی سے متعلق صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اس صورتحال سے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی اور یہ کہ صوبے کا کوئی طبقہ دہشت گردی سے محفوظ نہیں ہے ۔
جید علماء اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے علماء کو اس لئے وقفے وقفے سے نشانہ بنایا جاتا ہے کہ وہ پاکستان میں جاری دہشتگردی کو شریعت کے مطابق خلاف اسلام قرار قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کرتے ہوئے ہیں اور اس طرزِ عمل کے باعث دہشت گردی کے بیانیے پر ذد پڑتی ہے ۔
دوسری جانب گزشتہ روز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت کور کمانڈر کانفرنس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک کے داخلی اور خارجی معاملات کے علاوہ ایک بار پھر افغانستان اور بھارت کے کردار کا جائزہ لیا گیا اور دو ٹوک الفاظ میں واضح کردیا گیا کہ دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور یہ کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز اور ریاست تمام چیلنجز کا نہ صرف یہ کہ ادراک رکھتی ہیں بلکہ افواج پاکستان ان چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں ۔
