پشاور (سٹاف رپورٹر): سٹی میٹروپولیٹن کونسل کے سابق اراکین اور مختلف نیبرہڈ کونسلز کے سابق چیئرمینوں نے سرکاری دستاویزات کی مد میں مبینہ اضافی فیس وصولیوں کے خلاف احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔
سابق نمائندوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بلدیاتی نظام کی مدت ختم ہونے کے بعد نیبرہڈ کونسل سیکرٹریز کی جانب سے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ، فارم بی، نکاح نامہ، ڈومیسائل اور دیگر دستاویزات کے اجرا و تصدیق کے لیے مقررہ سرکاری فیس سے زائد رقم وصول کی جا رہی ہے، جو ناقابل قبول ہے۔
یہ فیصلہ سابق چیئرمین شیخ آباد فضل وہاب صافی کی رہائشگاہ پر منعقدہ مشترکہ اجلاس میں کیا گیا، جس میں فقیر آباد، کریم پورہ، گنج، گلبہار، یکہ توت اور دیگر علاقوں کے سابق چیئرمینوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ اب دستاویزات کی تصدیق سابق چیئرمینوں کے بجائے گریڈ 17 کے افسران سے کروانے کی شرط عائد کر دی گئی ہے، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
اجلاس کے شرکاء نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ سٹی پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ سیکرٹریز کی پشت پناہی کر رہے ہیں، جس کے باعث چیک اینڈ بیلنس کا نظام متاثر ہوا ہے اور مبینہ طور پر من مانیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
سابق نمائندوں کا کہنا تھا کہ نیبرہڈ کونسل سطح پر نگرانی کے مؤثر نظام کے فقدان کے باعث شہریوں سے زائد فیس وصول کی جا رہی ہے، جو فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا نوٹس لے کر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو وہ احتجاج سمیت دیگر آپشنز استعمال کرنے پر مجبور ہوں گے۔


