خیبر پختونخوا میں مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع ہے، بعض اضلاع سے فلیش فلڈ کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں. ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ محکمے فیلڈ میں مکمل طور پر متحرک ہیں. عوام ندی نالوں، دریاؤں کے کناروں اور دیگر آبی گزرگاہوں کے قریب جانے سے گریز اور حکومت کی جانب سے جاری احتیاطی ہدایات پر عمل کریں. وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایت پر مون سون میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع کنٹیجنسی پلان بھی مکمل طور پر لاگو ہے.صوبے کے تمام 37 اضلاع اور 12 فرنٹ لائن محکموں کا ہنگامی پلان مکمل اور فعال ہے. شمالی اضلاع میں سیلاب اور گلاف جبکہ جنوبی اضلاع میں ہیٹ ویو سے نمٹنے کے لیے پلان پر عملدرآمد کے لئے ٹیمیں متحرک ہیں. تمام اضلاع میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم،ایمرجنسی رسپانس پلان اور کنٹرول رومز فعال ہیں. 42 واٹر ریسکیو پوائنٹس، 185 ریلیف کیمپ اور امدادی سامان مون سون سے قبل تیار رکھا گیا ہے. دریاؤں اور آبی راستوں پر ریسکیو آپریشن کے لیے 4,164 کلومیٹر کے راستوں کی مکمل میپنگ کر لی گئی ہے. ریسکیو 1122 کے عملے کی چھٹیاں منسوخ کر کے اہلکار فیلڈ میں تعینات ہیں. 17 حساس اضلاع میں جدید ریسکیو آلات سے لیس واٹر ریسکیو پوائنٹس قائم ہیں. گلیشیئر پگھلنے کے خطرے سے دوچار 5 اضلاع کے لیے 50 کروڑ 50 لاکھ روپے کے ریلیف فنڈز مختص کر دیے گئے ہیں. گلیشیائی جھیل پھٹنے کے خطرات سے نمٹنے کے لیے 8 وادیوں میں نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا گیا ہے. ہیٹ ویو سے نمٹنے کے لیے 14 اضلاع میں خصوصی رسپانس میکانزم مکمل طور پر فعال ہے. سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 503 بھاری مشینیں فیلڈ میں موجود اور 87.4 کلومیٹر شہری آبی گزرگاہوں کی صفائی مکمل کی جا چکی ہے. آبی گزرگاہوں سے 2,433 کنال پر تجاوزات ختم، پشاور میں 38 شہری سیلابی ہاٹ اسپاٹس پر خصوصی ٹیمیں تعینات ہیں. 22 مقامات پر دریاؤں کی نگرانی کے لیے جدید ٹیلی میٹری سسٹم فعال ہے. 55 شاہراہوں پر فلڈ مانیٹرنگ، متبادل راستوں کی منصوبہ بندی اور ہنگامی رسائی کا انتظام مکمل کر لیا گیا ہے. تمام شہری مراکز میں نالوں اور اسٹارم ڈرینز کی صفائی مکمل، پشاور سمیت بڑے شہروں میں ڈی واٹرنگ مشینیں پہلے سے موجود ہیں. تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط رابطہ نظام قائم کر دیا گیا ہے. عوام کی جان و مال کا تحفظ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے. عوام سیاحتی علاقوں میں پولیس اور انتظامیہ سے تعاون کریں.


